Bharat Express DD Free Dish

Trump Issues Fresh Warning: ’’ایران نے جنگ بندی کی یقین دہانی کے باوجود کی وعدہ خلافی، آبنائے ہرمز پر ہوگا امریکہ کا مکمل کنٹرول‘‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر دی ایران کو سخت وارننگ

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ طے شدہ مفاہمتی یادداشت اب ’’بحران کے مرحلے‘‘ میں داخل ہو چکی ہے۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق بقائی نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے معاہدے کو تقریباً فوری طور پر سبوتاژ کر دیا اور ایران کو آبنائے ہرمز سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے دی گئی ایک ماہ کی مہلت بھی مکمل نہیں ہونے دی۔

واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تہران نے جنگ بندی سے متعلق طے شدہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول سنبھال رہا ہے اور ایران کے پاس اب کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ فاکس نیوز کو ٹیلی فون پر دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے گزشتہ شب ہونے والے معاہدے کو توڑ دیا۔ انہوں نے کہا ’’ایسا لگتا ہے کہ وہ دوبارہ آبنائے ہرمز پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اب ہم آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال رہے ہیں۔ ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچا۔‘‘ ٹرمپ کے مطابق گزشتہ روز تقریباً گیارہ گھنٹے تک مذاکرات ہوئے تھے اور تمام معاملات طے پا گئے تھے، لیکن اجلاس ختم ہونے کے بعد ایران نے دوبارہ رابطہ کرکے معاہدے میں تبدیلیوں کا مطالبہ کیا۔

امریکہ کا ایران پر وعدہ خلافی کا الزام

امریکی صدر نے ایران پر ماضی میں بھی متعدد بار معاہدوں کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ تہران کے ساتھ اب تک تقریباً دس معاہدے ہوئے، مگر اس نے ہر بار وعدہ توڑا۔ انہوں نے کہا ’’یہ ایک مکمل طے شدہ معاہدہ تھا، لیکن انہوں نے اسے توڑ دیا۔ وہ ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہیں۔ ہم انہیں سخت جواب دیتے رہیں گے اور آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھیں گے۔ ان کا زیادہ تر فوجی سازوسامان تباہ ہو چکا ہے۔ گزشتہ رات ہم نے ان کے فضائی دفاعی نظام کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ جب بھی وہ ڈرون بھیجتے ہیں، ہم بھرپور جواب دیتے ہیں۔‘‘

ایران کا امریکہ پر جنگ بندی توڑنے کا الزام

دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہونے والے امریکی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے آبنائے ہرمز کے سکیورٹی انتظامات میں مداخلت کرکے عالمی بحری تجارت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی حملے اقوام متحدہ کے منشور، بالخصوص آرٹیکل 2(4)، کی صریح خلاف ورزی ہیں اور عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکہ نے جنگ بندی کے بیشتر نکات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے ٹرانسپورٹ نظام، ماہی گیری کی کشتیوں، کارگو بارجز اور موسمیاتی مراکز کو نشانہ بنایا، جسے تہران نے جنگی جرم قرار دیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ طے شدہ مفاہمتی یادداشت اب ’’بحران کے مرحلے‘‘ میں داخل ہو چکی ہے۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق بقائی نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے معاہدے کو تقریباً فوری طور پر سبوتاژ کر دیا اور ایران کو آبنائے ہرمز سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے دی گئی ایک ماہ کی مہلت بھی مکمل نہیں ہونے دی۔

سینٹکام کے نئے حملے، ایران کا جوابی اقدام

ادھر امریکی سینٹرل کمان (سینٹکام) نے اعلان کیا کہ 12 جولائی کو ایران کے مختلف علاقوں میں فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار، میزائل اور ڈرون تنصیبات سمیت متعدد فوجی اہداف پر تازہ حملے کیے گئے۔ جواب میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے بحرین، عمان اور کویت میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read