US-Iran Relations: امریکہ سے عدم اعتماد کی فضا ختم کرنے کا مطالبہ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا-’’امریکہ اعتماد بحال کرے تو ایران امن کی راہ اختیار کرے گا‘‘
ایرانی صدر نے کہا ’’ایران اس وقت تک اپنی ذمہ داریوں پر قائم رہے گا جب تک امریکہ مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا رہے گا۔ جہاں کہیں وہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوگا، وہاں ہماری بھی اسے جاری رکھنے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی۔‘‘
Iran releases video of Mojtaba: اسرائیلی میڈیا کی جانب سے مجتبیٰ خامنہ ای کی خراب صحت کی خبر کے بعد ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر نے جاری کی ویڈیو
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نیوز نے ایک بغیر تاریخ کی ویڈیو جاری کی ہے، جس میں مجتبیٰ خامنہ ای بظاہر صحت مند نظر آرہے ہیں۔ ویڈیو کے اجرا کو مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور موجودہ مقام سے متعلق بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں کو مسترد کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
Strait of Hormuz: مغربی ایشیا کے بحران کے درمیان مودی حکومت کا بڑا دعویٰ، آبنائے ہرمز سے دو چار نہیں، پورے 62 جہاز بحفاظت گزرے
3 اگست تک خلیجی خطے سے 4,052 ہندوستانی ملاح واپس لائے گئے۔ گزرنے والے جہازوں میں 23 ہندوستانی پرچم بردار اور 39 غیر ملکی پرچم والے جہاز شامل۔ بحیرۂ اسود اور باب المندب کے لیے بھی ایڈوائزری جاری کردی گئی ہے۔
US-Iran Conflict: ’’دشمن کو اپنے دستخط کی پاسداری کرنی ہوگی‘‘ ایران کے ساتھ امن معاہدے پر امریکہ کو قائم رکھنے کے لیے دباؤ ڈالنا ضروری: صدر مسعود پزشکیان
دوسری جانب ایران کے قائم مقام وزیر دفاع سید ماجد ابن الرضا نے کہا کہ تہران ہر دشمن کی دھمکی کو حقیقی اور سنجیدہ سمجھتا ہے اور اسے محض نفسیاتی جنگ قرار نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نہ تو کسی ممکنہ حملے سے حیران ہوگا اور نہ ہی غفلت برتے گا، بلکہ ہر دھمکی کو اپنی دفاعی تیاری، مزاحمتی صلاحیت اور عسکری طاقت میں اضافے کا موقع سمجھتا ہے۔
Where is Mojtaba Khamenei: ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای 150 دن سے عوامی منظر سے غائب، معلومات حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں موساد اور سی آئی اے
رپورٹس کے مطابق ابتدا میں تکنیکی نگرانی اور سگنل انٹیلی جنس پر انحصار کیا جا رہا تھا، تاہم مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل غیر موجودگی کے باعث اب انسانی ذرائع (ہیومن انٹیلی جنس) کے ذریعے معلومات حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ زیادہ پیچیدہ، سست اور خطرات سے بھرپور سمجھا جاتا ہے۔
Ukrain-Russia Conflict: یوکرین کے صدر زیلنسکی کا روس کے اہم فوجی اور تیل مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، کہا-’’حملوں سے روس کی فوجی سپلائی چین متاثر‘‘
زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کا اثر تقریباً 1,350 کلومیٹر دور واقع ایک تیل کی تنصیب پر بھی واضح طور پر دیکھا گیا ہے۔ یوکرینی صدر نے ان کامیابیوں کو ممکن بنانے والی یوکرین کی مسلح افواج، خفیہ ایجنسیوں اور سکیورٹی سروس کی تمام یونٹس کا شکریہ ادا کیا۔
US-Saudi Nuclear Deal: ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونے سے مشروط ہوگا امریکی-سعودی جوہری معاہدہ، یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی: ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر کا یہ بیان امریکی اور سعودی حکام کی جانب سے اہم توانائی معاہدے کا اعلان کیے جانے کے 24 گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے ابراہیمی معاہدوں کا دائرہ وسیع کرنے کی مسلسل سفارتی کوششوں کے باوجود سعودی حکام فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق اپنے موقف پر قائم ہیں۔
US-Iran Tensions: ’’آبنائے ہرمز میں جہازوں کو نشانہ بنایا تو تہران کے پل اور بجلی گھروں پر ہوگا حملہ‘‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر دی ایران کو دھمکی
آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم بحری راستوں میں سے ایک ہے۔ دنیا بھر میں بھیجے جانے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس راستے کی اہمیت کے پیش نظر آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ عالمی توانائی منڈی اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر کرسکتی ہے۔
Israel unwilling to refuel US military aircraft: امریکی ری فیولنگ طیاروں کی بڑھتی تعداد پر اسرائیل کا اظہار تشویش، کہا-’’بین گورین ایئرپورٹ کی گنجائش ختم‘‘
ایران کے ساتھ جاری تنازع کے درمیان بڑی تعداد میں امریکی ری فیولنگ طیارے اسرائیل پہنچ رہے ہیں۔ مسافر پروازیں متاثر ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ اسرائیل ایئرپورٹس اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ بین گورین ایئرپورٹ اپنی زیادہ سے زیادہ گنجائش تک پہنچ چکا ہے اور اب وہ ایک اور ری فیولنگ طیارے کو بھی سنبھالنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
Saudi Nuclear Deal: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کیلئے بڑی سفارتی کامیابی، ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ محدود حفاظتی انتظامات والے جوہری معاہدے کو دی منظوری
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے تو سعودی عرب بھی جوہری ہتھیار حاصل کرے گا۔ اسی بیان کے پیشِ نظر ماہرین کو خدشہ ہے کہ سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت فراہم کرنے سے مشرقِ وسطیٰ میں جوہری پھیلاؤ اور ہتھیاروں کی ممکنہ دوڑ کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔





