نئی دہلی: روس-یوکرین جنگ کے درمیان یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے جمعہ کو روس کے اہم فوجی ادارے اور تیل سے متعلق تنصیبات پر حملے کا دعویٰ کیا۔ زیلنسکی کے مطابق، ان حملوں سے روس کے فوجی سپلائی نظام پر اثر پڑا ہے۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ’’جمعہ کو یوکرین کی دفاعی افواج نے روس کے کیروف میں واقع ایک اہم فوجی ادارے کو نشانہ بنایا۔ یہ کمپنی روسی فوج کے طیاروں اور میزائل نظام کے لیے ضروری پرزے تیار کرتی ہے، جن کا استعمال ہمارے شہروں اور بستیوں پر بڑے پیمانے پر کیے جانے والے حملوں میں کیا جاتا ہے۔ میں اپنے فوجیوں کی درست کارروائی کے لیے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہماری یہ جوابی کارروائی مکمل طور پر جائز ہے۔‘‘
’1,350 کلومیٹر دور تیل کی تنصیب پر بھی حملہ‘
زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کا اثر تقریباً 1,350 کلومیٹر دور واقع ایک تیل کی تنصیب پر بھی واضح طور پر دیکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ بھی کئی کامیاب حملے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’سب سے اہم بات یہ ہے کہ روسی فوج تک ڈرون کے پرزے، نیویگیشن آلات اور دیگر فوجی سامان پہنچانے والی اس کی سپلائی چین کے خلاف ہماری مہم اب بھی جاری ہے۔‘‘ یوکرینی صدر نے ان کامیابیوں کو ممکن بنانے والی یوکرین کی مسلح افواج، خفیہ ایجنسیوں اور سکیورٹی سروس کی تمام یونٹس کا شکریہ ادا کیا۔
خیرسون، سومی اور خارکیف میں بھی حملوں کا دعویٰ
روس-یوکرین جنگ کے دوران دونوں جانب سے ایک دوسرے کے حملوں کا جواب دیا جا رہا ہے۔ روس بھی مسلسل یوکرین پر حملے کر رہا ہے۔ جمعرات کو پاولوہراد میں روسی فوج کے فضائی حملوں کے نتیجے میں ایک صنعتی کمپلیکس میں تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ زیلنسکی نے الزام لگایا کہ روس بار بار رہائشی علاقوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ زیلنسکی کے مطابق روس نے خیرسون کو بھی نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں کئی اپارٹمنٹ عمارتوں اور عام رہائشی مکانات کے علاوہ علاقائی بچوں کے کلینیکل اسپتال اور کئی تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچا ہے۔ حملوں میں کئی افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ یوکرینی صدر نے بتایا کہ روس نے سومی اور خارکیف کے علاقوں میں اہم بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ اوڈیسا پر میزائل حملے کیے گئے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
