لکھنؤ میں گومتی ندی کی طغیانی سے متاثرہ علاقوں کو مستقبل میں سیلاب سے محفوظ رکھنے کے لیے بڑا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ فیض اللہ گنج سے نیمیش تک گرین کوریڈور کی طرز پر پشتہ تعمیر کیا جائے گا۔ اس پشتے پر آمدورفت کے لیے سڑک بھی بنائی جائے گی، جس سے یہ منصوبہ سیلاب سے تحفظ کے ساتھ ساتھ آمدورفت کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ہوگا۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے پیر کو بکشـی کا تالاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران اس منصوبے کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پشتے کی تعمیر کو منظوری دے دی گئی ہے اور مانسون کے اختتام کے بعد ضروری رقم جاری کرکے کام شروع کیا جائے گا۔
فیض اللہ گنج سے نیمیش تک ہوگا سروے
وزیر اعلیٰ نے بکشـی کا تالاب تحصیل کے سیلاب متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور انہیں امدادی سامان تقسیم کیا۔ انہوں نے امداد و بچاؤ کے کاموں میں مصروف ٹیموں سے صورتحال کی معلومات حاصل کیں اور محکمہ صحت کے کیمپ کا بھی معائنہ کیا۔ اس سے قبل انہوں نے فیض اللہ گنج سے نیمیش تک متاثرہ علاقوں کا فضائی سروے بھی کیا۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے محکمہ آبپاشی کے پرنسپل سکریٹری کو ہدایت دی کہ فیض اللہ گنج سے نیمیش تک گومتی کے کنارے کا سروے کرکے پشتے کی تعمیر کا منصوبہ تیار کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پشتے کے باہر بارش کا پانی جمع نہ ہو، اس کے لیے بھی مناسب انتظام کیا جائے۔ آبادیوں میں پانی جمع ہونے کی صورت میں اسے پمپنگ سیٹ کے ذریعے گومتی ندی میں نکالا جائے گا۔ حکومت کی کوشش ہے کہ پشتہ ہر موسم میں کارآمد رہے اور اس پر آمدورفت کی سہولت بھی دستیاب ہو۔
پانچ سے چھ دن بعد پہنچا بارش کا پانی، گومتی کی سطح بڑھی
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ 10 دنوں کے دوران ریاست کے 50 سے زیادہ اضلاع میں شدید بارش ہوئی ہے۔ پیلی بھیت، لکھیم پور کھیری، سیتاپور اور نیپال میں ہونے والی بارش کا پانی پانچ سے چھ دن بعد نشیبی علاقوں تک پہنچا، جس کے نتیجے میں گومتی ندی کی سطح آب میں اضافہ ہوگیا۔ اس کی وجہ سے بکشـی کا تالاب، لکھنؤ شمالی اور فیض اللہ گنج سے نیمیش تک کے علاقوں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوئی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ مسلسل صورتحال اور امداد و بچاؤ کے کاموں کی نگرانی کر رہے تھے اور زمینی حالات کا جائزہ لینے کے لیے خود متاثرہ علاقوں میں پہنچے ہیں۔
متاثرہ خاندانوں کو 26 ضروری اشیا پر مشتمل امدادی سامان
سیلاب متاثرہ خاندانوں کو چاول، دال، آٹا، چنا اور ترپال سمیت 26 ضروری اشیا پر مشتمل امدادی سامان فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس میں 10 کلو چاول، 10 کلو آٹا، 10 کلو آلو، 2 کلو ارہر دال اور ایک لیٹر سرسوں یا ریفائنڈ تیل کے علاوہ نمک، مرچ مصالحہ، بالٹی، لائی بھوجا، موم بتی، ماچس اور برساتی سمیت دیگر اشیا شامل ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے متاثرہ افراد کو کھلے میں رہنے کے بجائے اسکولوں اور میرج ہالوں میں قائم ریلیف کیمپوں میں منتقل کرنے کی ہدایت دی۔ ان کیمپوں میں دن میں دونوں وقت گرم کھانے کا انتظام ہوگا۔ چھوٹے بچوں کے لیے دودھ اور حاملہ خواتین کے لیے غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کی جائے گی۔ مویشیوں کے لیے خشک بھوسے کے ساتھ چوکر کا بھی انتظام کیا جائے گا۔
جانی نقصان پر فوری 4 لاکھ روپے کی امداد
یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ سیلاب میں ڈوبنے یا آسمانی بجلی گرنے سے کسی شخص کی موت کی صورت میں متاثرہ خاندان کو فوری طور پر 4 لاکھ روپے کی امداد دی جائے گی۔ بارش کے باعث مکان مکمل طور پر تباہ ہونے پر اہل خاندان کو پردھان منتری آواس یوجنا یا مکھیا منتری آواس یوجنا کے تحت گھر فراہم کیا جائے گا۔ مویشیوں کے نقصان کی بھی تلافی کی جائے گی۔ امداد و بچاؤ کے کام مکمل ہونے کے بعد فصلوں کا بروقت سروے کیا جائے گا اور کسانوں کو فصلوں کے نقصان کا معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔
راج ناتھ سنگھ نے فون کرکے لی سیلاب کی معلومات
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پیر کی صبح فون کرکے لکھنؤ میں سیلاب کی صورتحال کی معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے بھی فیض اللہ گنج سے نیمیش تک پشتہ تعمیر ہونے سے سیلاب کے مسئلے میں راحت ملنے کی بات کہی۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے بتایا کہ پشتے کی تعمیر کو منظوری دی جاچکی ہے اور اس کے لیے فوری طور پر رقم جاری کرکے کام آگے بڑھایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے متاثرہ خاندانوں کو یقین دلایا کہ قدرتی آفت کی اس گھڑی میں ڈبل انجن حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امداد و بچاؤ کے کام جنگی پیمانے پر جاری ہیں اور ضلعی انتظامیہ کو اس کے لیے ضروری رقم فراہم کی گئی ہے۔
یہ اہم شخصیات رہیں موجود
پروگرام میں نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک، وزیر اعلیٰ کے چیف ایڈوائزر اویناش اوستھی، اراکین اسمبلی یوگیش شکلا اور ڈاکٹر نیرج بورا، قانون ساز کونسل کے رکن پون سنگھ چوہان، بی جے پی ضلع صدر وجے موریہ اور نگر پنچایت اٹونجا کے صدر اکھلیش کمار اوستھی سمیت انتظامیہ، پولیس اور محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ افسران موجود رہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


