Bharat Express DD Free Dish

Russia-Ukraine conflict

روس میں 18 سے 20 ستمبر تک اسٹیٹ ڈوما یعنی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں کے انتخابات ہو رہے ہیں۔ فروری 2022 میں یوکرین پر مکمل حملے کے آغاز کے بعد یہ روس کا پہلا پارلیمانی انتخاب ہے۔ اس بار مقبوضہ یوکرینی علاقوں میں بھی ووٹنگ کرائی جا رہی ہے، جس نے انتخابات کو روس-یوکرین جنگ اور علاقائی تنازع سے براہِ راست جوڑ دیا ہے۔

حیرۂ اسود کے خطے میں تجارتی جہازوں پر ملازمت کرنے والے بھارتی شہریوں کے لیے جاری تفصیلی ایڈوائزری میں وزارت خارجہ نے کہا کہ ملازمت کی شرائط پر لاگو بین الاقوامی بحری معیارات کی پابندی یقینی بنائی جانی چاہیے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ جاری تنازع کے باعث بحیرۂ اسود اور اس سے متصل سمندری علاقوں میں سکیورٹی کی صورتِ حال انتہائی غیر یقینی ہے۔

وزارت خارجہ نے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ دستیاب اطلاعات کے مطابق حملے میں ایک بھارتی شہری کی المناک موت ہوگئی، جبکہ جہاز پر سوار دیگر دو بھارتی شہری محفوظ ہیں۔ وزارت نے ہلاک ہونے والے بھارتی شہری کے اہل خانہ سے گہری تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کا اثر تقریباً 1,350 کلومیٹر دور واقع ایک تیل کی تنصیب پر بھی واضح طور پر دیکھا گیا ہے۔ یوکرینی صدر نے ان کامیابیوں کو ممکن بنانے والی یوکرین کی مسلح افواج، خفیہ ایجنسیوں اور سکیورٹی سروس کی تمام یونٹس کا شکریہ ادا کیا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ یوکرین میں ہندوستانی مشن صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہلاک ہونے والے ہندوستانی شہریوں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہے اور زخمی ہندوستانی شہری کی جلد اور مکمل صحت یابی کی دعا کرتا ہے۔

ماسکو کے قریب یوکرین کے بڑے ڈرون حملے کے بعد روس نے بیلسٹک میزائلوں سے جوابی کارروائی تیز کر دی ہے۔ لاجسٹک مراکز اور تیل کے ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔

زیلنسکی کے مطابق خارکیف کے علاقے میں روسی ڈرونز اور گائیڈڈ فضائی بموں کے حملوں میں چار افراد زخمی ہوئے۔ متعدد رہائشی مکانات اور مکمل طور پر شہری استعمال کی عمارتیں متاثر ہوئیں، جن میں ایک سنیما ہال اور ٹینس کورٹ بھی شامل ہیں۔

صدر وولودیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اس بار ماسکو نے بھی یوکرین کی طویل فاصلے تک مار کرنے والی صلاحیت کا اثر محسوس کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو کے علاقے میں تقریباً 500 کلومیٹر دور واقع ایک تیل ریفائنری کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔

یوکرین کے صدر ولودیمیر زلنسکی نے روسی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ روس نے ایک ہی رات میں 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرون یوکرینی شہروں پر داغے۔ ان کے مطابق یہ حملہ گزشتہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کیو پر ہونے والا تیسرا بڑا حملہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ روس شہری آبادی کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔

روسی تحقیقاتی کمیٹی کی ترجمان سویتلانا پیٹرینک کے مطابق کالج پر یوکرین کی مسلح افواج نے چار فکسڈ وِنگ بغیر پائلٹ طیاروں (یو اے وی) کے ذریعے حملہ کیا۔ حکام کے مطابق جب حملہ ہوا، اس وقت 14 سے 18 سال کی عمر کے 86 بچے عمارت میں موجود تھے۔