نئی دہلی: جواہر لال نہرو یونیورسٹی (JNU) میں طلبہ اور انتظامیہ کے درمیان تنازع شدت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ جے این یو طلبہ یونین (JNUSU) کے عہدیداروں، سابق عہدیداروں (OBs) اور دیگر طلبہ نے 3 اکتوبر سے متعدد مطالبات کو لے کر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ طلبہ کا الزام ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ ان کے مطالبات پر بات کرنے کے بجائے انہیں ہڑتال ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے اور کارروائی کی دھمکی بھی دی جا رہی ہے۔اس سے قبل 3 اکتوبر کو JNUSU کی جانب سے ’ادھیکار مارچ‘ نکالا گیا تھا۔ اس کے بعد رات کو طلبہ گنگا ڈھابہ پر جمع ہوئے اور غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی۔ JNUSU کے مطابق صدر کامریڈ ادیتی، نائب صدر کامریڈ گوپیکا، جنرل سیکریٹری کامریڈ سنیل، JNUSU کے سابق عہدیداران اور 14 دیگر طلبہ اس بھوک ہڑتال میں شامل ہیں۔
CPO مینوئل واپس لینے سمیت کئی مطالبات
بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ کے اہم مطالبات میں CPO مینوئل واپس لینا، JNUSU عہدیداروں کی رَسٹیکیشن اور ’آؤٹ آف باؤنڈز‘ احکامات منسوخ کرنا، کیمپس کے خراب بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا اور GSCASH کو دوبارہ شروع کرنا شامل ہے۔ طلبہ تنظیم نے ریکروٹمنٹ سے متعلق مبینہ معاملے کی IQAC کے ذریعے آزادانہ تحقیقات اور روہت ایکٹ کے مطابق EOC میں اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کا الزام
طلبہ کا الزام ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوران JNU کے وائس چانسلر نے چیف سکیورٹی آفیسر (CSO) کو یونین دفتر بھیجا۔ JNUSU کے مطابق، CSO نے پہلے سے نافذ رَسٹیکیشن اور ’آؤٹ آف باؤنڈز‘ احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے بھوک ہڑتال کو غیر قانونی قرار دیا اور خبردار کیا کہ احتجاج جاری رکھنے پر رَسٹیکیشن کی مدت بڑھائی جا سکتی ہے۔طلبہ رہنماؤں نے اسے دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ طلبہ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انتظامیہ نے بھوک ہڑتال پر بیٹھے یونین عہدیداروں کا طبی معائنہ کرانے سے بھی انکار کر دیا۔
30 ستمبر کو وائس چانسلر دفتر پہنچا تھا وفد
بھوک ہڑتال سے قبل بھی طلبہ انتظامیہ کے سامنے اپنے مطالبات رکھ چکے تھے۔ JNUSU کا ایک وفد 30 ستمبر کو تقریباً ایک درجن مطالبات کے ساتھ وائس چانسلر کے دفتر پہنچا تھا۔ طلبہ کے مطالبات صرف سیاسی یا انتظامی فیصلوں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ ہاسٹل کی سہولیات اور کیمپس کی روزمرہ زندگی سے متعلق کئی مسائل بھی ان میں شامل ہیں۔بارک ہاسٹل میں میس اور وائی فائی کی سہولت بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہاسٹل کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری، لائبریری میں نشستوں کی تعداد بڑھانے اور 24 گھنٹے لفٹ سروس فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ کاویری، پیریار اور گوداوری ہاسٹل کی خراب لفٹوں کی مرمت بھی طلبہ کے اہم مطالبات میں شامل ہے۔طلبہ نے ٹیفلاس اور کیمپس کی سڑکوں کی مرمت، اسٹیڈیم کی تزئین نو، جینڈر نیوٹرل واش روم کی سہولت اور ہیلتھ سینٹر میں بہتری کا مطالبہ بھی انتظامیہ کے سامنے رکھا ہے۔
فیس، فیلوشپ اور داخلہ نظام بھی مطالبات میں شامل
طلبہ تنظیم نے میس بلوں کے آڈٹ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ اس کے ساتھ میرٹ کم مینز فیلوشپ کی رقم بڑھانے اور انجینئرنگ کے طلبہ کو بھی اس اسکیم کے دائرے میں شامل کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔ طلبہ نے سالانہ آڈٹ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔JNUSU نے سدھانت نالج فاؤنڈیشن کو ہٹانے اور طلبہ یونین کے فنڈ کو بحال کرنے کا مطالبہ بھی اٹھایا ہے۔ اس کے علاوہ JNUEE یعنی جے این یو انٹرنس ایگزامینیشن کو دوبارہ شروع کرنے کی مانگ بھی شامل ہے۔GSCASH یعنی جینڈر سینسٹیائزیشن کمیٹی اگینسٹ سیکسول ہراسمنٹ کی بحالی بھی طلبہ کے اہم مطالبات میں شامل ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ کیمپس میں شکایات اور جنسی ہراسانی سے متعلق معاملات سے نمٹنے کے لیے مؤثر نظام کا ہونا ضروری ہے۔JNUSU نے کہا ہے کہ وائس چانسلر کو پیغام بھیج کر واضح کر دیا گیا ہے کہ انتظامی دباؤ یا کارروائی کی دھمکی سے بھوک ہڑتال ختم نہیں کی جائے گی۔ طلبہ رہنماؤں کے مطابق مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رہے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


