Bharat Express DD Free Dish

JNU Students

جے این یو انتظامیہ اور وائس چانسلر کے دفتر کی جانب سے اس معاملے پر فی الحال کوئی آفیشیل ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا ہے کہ آئی سی سی کی تحقیقات کس مرحلے میں پہنچی ہیں اور اب تک کمیٹی کی جانب سے کیا کارروائی کی گئی ہے۔ معاملے میں آئندہ کی صورتحال آئی سی سی کی تحقیقات اور اس کے نتائج پر منحصر ہوگی۔

جے این یو میں عمر خالد کی کتاب ’فریکچرڈ کمیونٹیز: آدیواسی ہسٹری اور پاور کی پولیٹکس‘ پر ایک ڈسکشن پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا اہتمامJNUSU نے اپنی سطح پر کیا تھا۔ پروگرام شروع ہوتے ہی اے بی وی پی  کے کارکنان نے ہنگامہ شروع کر دیا۔ کیا تھا پورا معاملہ ؟ جانیے یہاں۔

طلبہ تنظیموں کا الزام ہے کہ پولیس نے طاقت کا استعمال کیا اور لاٹھی چارج کیا، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ بعض مظاہرین نے اہلکاروں پر پتھراؤ، ڈنڈوں، بینرز اور جوتوں سے حملہ کیا۔ اس دوران کشن گڑھ تھانے کے ایس ایچ او سمیت کئی اہلکار زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر صفدرجنگ اسپتال منتقل کیا گیا۔

دہلی میں واقع جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں جمعرات کو طلبہ یونین کی جانب سے نکالے گئے احتجاجی مارچ کے دوران حالات اس وقت کشیدہ ہو گئے جب طلبہ اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپ ہوگئی۔ اس جھڑپ میں کم از کم 25 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 51 طلبہ کو حراست میں لے لیا۔

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) ایک بار پھر تنازع کی زد میں آ گئی ہے۔ دیر رات مبینہ طور پر اشتعال انگیز اور قابلِ اعتراض نعرے لگانے کے معاملے پر یونیورسٹی انتظامیہ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کیمپس کو کسی بھی صورت نفرت کی تجربہ گاہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ اس واقعے میں ملوث طلبہ کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

دہلی فسادات اور یو اے پی اے کے مقدمات میں گرفتار عمر خالد، شرجیل امام، گل فشاں فاطمہ وغیرہ ملزمان کو اب تک کوئی ریلیف نہیں حاصل ہو سکی ہے۔ اب سپریم کورٹ 5 جنوری کو ان کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ سنائے گی۔

جے این یو کے لاپتہ طالب علم نجیب احمد کی والدہ فاطمہ نفیس سی بی آئی سے مزید تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ درخواست کی سماعت جمعہ 19 دسمبر 2025 کودہلی ہائی کورٹ میں ہوگی۔

دہلی فسادات معاملے میں  گزشتہ 5 برس سے زائد عرصے سے مقید عمر خالد، شرجیل امام  اور دیگر ملزمان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ 1967کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ سنوائی کے بعد ملزمان کی  درخواست ضمانت  پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔

جے این یو کے سابق ریسرچ اسکالر عمر خالد کو 13 ستمبر 2020 کو دہلی فسادات میں مبینہ طور پر سازش کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔بہن کی شادی میں شامل ہونے کے لیے عمر خالد نے عبوری کی درخواست دی ہے۔

جے این یو کی سینئر پروفیسر میتا نارائن کو روس۔بھارت ثقافتی اور تعلیمی تعلقات کو مضبوط بنانے میں ان کی اہم خدمات کے اعتراف میں معزز ’’دوستویفسکی اسٹار ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز روسی ادب اور ثقافتی مکالمے کو فروغ دینے والی نمایاں شخصیات کو دیا جاتا ہے۔