JNU Students Accuse Professor: جے این یو پروفیسر پر جنسی ہراسانی کے سنگین الزامات، 10 طالبات نے درج کرائی شکایت، انٹرنل کمپلینٹس کمیٹی نے شروع کی تحقیقات
جے این یو انتظامیہ اور وائس چانسلر کے دفتر کی جانب سے اس معاملے پر فی الحال کوئی آفیشیل ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا ہے کہ آئی سی سی کی تحقیقات کس مرحلے میں پہنچی ہیں اور اب تک کمیٹی کی جانب سے کیا کارروائی کی گئی ہے۔ معاملے میں آئندہ کی صورتحال آئی سی سی کی تحقیقات اور اس کے نتائج پر منحصر ہوگی۔
JNU Vice Chancellor: جے این یو میں بھرتیوں میں بے ضابطگیوں کے الزامات کو وائس چانسلر نے’منفی مہم‘ قراردیا
انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کے کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں اور میڈیا کے ایک حصے کی جانب سے جھوٹے اور گمراہ کن دعووں کے ذریعے ان کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے۔ وائس چانسلر نے کہا کہ جے این یو اسٹوڈنٹس یونین (جے این یو ایس یو) اور جے این یو ٹیچرز ایسوسی ایشن (جے این یو ٹی اے) ان کے خلاف اس مہم کا حصہ ہیں۔
جے این یو طلبہ یونین کی سابق صدر آئیشی گھوش کو بڑی راحت، عدالت نے غیرضمانتی وارٹ پر لگائی روک، دہلی پولیس پہنچی تھی سی پی آئی ایم کے دفتر
دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے جے این یواسٹوڈنٹس یونین کی سابق صدرآئشی گھوش کے خلاف بنگا بھون احتجاج سے متعلق ایک معاملے میں عدالتی کارروائی میں حصہ لینے میں ناکامی پرجاری کئے گئے غیرضمانتی وارنٹ پرروک لگا دی ہے۔
JNU Clash: جے این یو میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپ، 25 پولیس اہلکار زخمی، 51 طلبہ حراست میں
دہلی میں واقع جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں جمعرات کو طلبہ یونین کی جانب سے نکالے گئے احتجاجی مارچ کے دوران حالات اس وقت کشیدہ ہو گئے جب طلبہ اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپ ہوگئی۔ اس جھڑپ میں کم از کم 25 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 51 طلبہ کو حراست میں لے لیا۔
JNU Mob Lynching: جے این یو ماب لنچنگ! کیا آپ نے دیکھی آدھی رات کی جھڑپ کی ویڈیو؟
اتوار دیر رات دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں لیفٹ ونگ گروپس اور اے بی وی پی کارکنان کے درمیان مبینہ جھڑپ پیش آئی۔ اس کے بعد اے بی وی پی نے الزام لگایا کہ 100 سے 150 افراد کی بھیڑ نے حملہ کیا، جسے انہوں نے ’ماب لنچنگ‘ قرار دیا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔
Historic Seminar On Life Of Padma Bhushan Mian Bashir Ahmed Larvi: جے این یو میں پدم بھوشن میاں بشیر احمد لاروی کی حیات و خدمات پر تاریخی سیمینار، شخصیت کو امن و رواداری کا استعارہ قرار دیا گیا
رکن پارلیمنٹ میاں الطاف لاروی، پروفیسر قدوس جاوید اور حسن پرواز سمیت کئی دانشوروں نے شرکت کی، گجر بکروال اکیڈمک فورم کے اہتمام سے منعقد تقریب میں عوامی خدمت کے فلسفے پر زور
Sixth Himalayan–Hind Oceanic Nations Group international conference: چھٹے ہمالیہ–ہند بحرِ ہند ممالک گروپ (HHRS) بین الاقوامی کانفرنس 2026 کا شاندار افتتاح
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو)، نئی دہلی کے کنونشن سینٹر میں چھٹے ہمالیہ–ہند بحرِ ہند ممالک گروپ بین الاقوامی کانفرنس 2026 کا شاندار اور پروقار افتتاح عمل میں آیا۔ یہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس ہمالیہ–ہند بحرِ ہند ممالک گروپ (HHRS) اور راشٹریہ سرکشا جاگرن منچ (RSJM) کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے۔
Responsible Nations Index: بھارت کا پہلا ’رسپانسبل نیشنس انڈیکس‘ لانچ، آئی آئی ایم ممبئی اور جے این یو نے ادا کی کلیدی ذمہ داری، 154 ممالک کا لیا جائے گا جائزہ
بھارت میں پہلی بار ایک عالمی معیار کا انڈیکس متعارف کرایا گیا ہے جو کسی ملک کی ترقی کو صرف جی ڈی پی یا اقتصادی اعداد و شمار کی بنیاد پر نہیں بلکہ اُس کی ذمہ داری، اخلاقی قیادت، ماحولیاتی ذمہ داری اور شہریوں کی بھلائی کی بنیاد پر ماپے گا۔ اس انڈیکس کا نام ’رسپانسبل نیشنس انڈیکس‘ رکھا گیا ہے۔
JNU Controversy: ”نفرت کی تجربہ گاہ نہیں بنے گا جے این یو“، دیر رات نعرے بازی پر انتظامیہ سخت، طلبہ کے خلاف کارروائی کے اشارے
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) ایک بار پھر تنازع کی زد میں آ گئی ہے۔ دیر رات مبینہ طور پر اشتعال انگیز اور قابلِ اعتراض نعرے لگانے کے معاملے پر یونیورسٹی انتظامیہ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کیمپس کو کسی بھی صورت نفرت کی تجربہ گاہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ اس واقعے میں ملوث طلبہ کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
Missing JNU student Najeeb Ahmad Case: جے این یو کے لاپتہ طالب علم نجیب احمد کی والدہ کی عرضی پر سماعت آج، سی بی آئی کی کلوزر رپورٹ کو کیا گیا ہے چیلنج
جے این یو کے لاپتہ طالب علم نجیب احمد کی والدہ فاطمہ نفیس سی بی آئی سے مزید تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ درخواست کی سماعت جمعہ 19 دسمبر 2025 کودہلی ہائی کورٹ میں ہوگی۔





