Bharat Express DD Free Dish

JNU

جے این یو کی سینئر پروفیسر میتا نارائن کو روس۔بھارت ثقافتی اور تعلیمی تعلقات کو مضبوط بنانے میں ان کی اہم خدمات کے اعتراف میں معزز ’’دوستویفسکی اسٹار ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز روسی ادب اور ثقافتی مکالمے کو فروغ دینے والی نمایاں شخصیات کو دیا جاتا ہے۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی طلبہ یونین انتخابات میں مرکزی پینل کی چاروں نشستوں پر لیفٹ کی حمایت یافتہ طلبہ تنظیموں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ وہیں گزشتہ سال ایک نشست جیتنے والی اے بی وی پی اس مرتبہ تمام نشستوں پر شکست سے دوچار ہوگئی۔

نجیب احمد، جو جے این یو میں ایم ایس سی بائیو ٹیکنالوجی کے طالب علم تھے، 15 اکتوبر 2016 کو یونیورسٹی کے ماہی-مانڈوی ہاسٹل سے لاپتہ ہو گئے تھے۔ اس سے ایک رات قبل ان کا کچھ طلبہ کے ساتھ، جن کا تعلق مبینہ طور پر اکھل بھارتیہ ودیارتی پریشد (اے بی وی پی) سے تھا، جھگڑا ہوا تھا۔

حال ہی میں، جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) نے قومی سلامتی کے خدشات کی بنا پر ترکی کی انونو یونیورسٹی کے ساتھ اپنا معاہدہ معطل کیا، جبکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ (جے ایم آئی) نے بھی ترکی یونیورسٹیوں کے ساتھ تمام تعاون معطل کر دیے ہیں ۔

سی بی آئی نے ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ جیوتی مہیشوری کے سامنے اپنی کلوزر رپورٹ اور احمد کی والدہ فاطمہ نفیس کی طرف سے اس کے خلاف دائر کی گئی ایک احتجاجی عرضی پر بحث کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے۔

حسین کا 2018 میں راجیہ سبھا میں داخلہ بھی دلچسپ تھا۔ اس سے پہلے، وہ 2018 کے کرناٹک اسمبلی انتخابات میں بلاری سٹی سیٹ کے امیدوار تھے، لیکن پارٹی وہاں سے اپنے موجودہ ایم ایل اے انیل لاڈ کو کھڑا کرنا چاہتی تھی۔

ویدانتک حکمت تک رسائی کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے،  دھنکھڑ نے کہا کہ‘‘ آئیے ہم ویدانتک حکمت کو ٓائیوری ٹاورز سے لے کر کلاس رومز تک لائیں، اور معاشرے کے ہر کونے تک اس کی رسائی کو یقینی بنائیں۔

اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کا الزام ہے کہ لیفٹ کے طلبا ہمیشہ اے بی وی پی کے پروگراموں میں رخنہ اندازی کرتے ہیں اورآج بھی لیفٹ کے طلبا کی طرف سے پتھربازی ہوئی ہے۔

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے کہا کہ یہ سمینار ادب کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ایک کوشش ہے۔ انھوں نے اس موقعے پر ایک قرار داد پیش کی جس میں ملک کے مختلف حصوں میں کونسل کی جانب سے ثقافتی تقریبات کا انعقاد اور تمام ریاستوں کے ادیبوں کی نمائندگی پر بھی زور دیا۔

مصنوعی ترجمہ ہماری ذہانت کا ہی انعکاس ہوتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ اچھی، معلوماتی اور کارآمد چیزیں اَپ لوڈ کی جائیں تاکہ مصنوعی ذہانت سے ہم خاطرخواہ استفادہ کرسکیں۔