نئی دہلی: بھارت اور سوئٹزرلینڈ نے اپنے دوطرفہ تعلقات کو نئی سمت دینے کے لیے مختلف شعبوں میں تعاون آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک نے تعلقات کو صرف تجارت اور سرمایہ کاری تک محدود رکھنے کے بجائے لوگوں کی آمدورفت، نوجوان پیشہ ور افراد، ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق اور اسٹارٹ اپس جیسے نئے شعبوں تک وسعت دینے کی سمت میں اہم پیش رفت کی ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے صدر گائے پارملین کے بھارت دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان 5 اہم معاہدوں اور تعاون سے متعلق دستاویزات پر اتفاق ہوا۔ وزارت خارجہ (MEA) نے ایک بیان جاری کرکے اس کی اطلاع دی۔
مائیگریشن اور موبیلٹی پارٹنرشپ معاہدہ
اہم معاہدوں میں سے ایک مائیگریشن اینڈ موبیلٹی پارٹنرشپ (MMP) سے متعلق ہے۔ اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان محفوظ اور منظم انداز میں لوگوں کی آمدورفت کو فروغ دینا اور مساوی سلوک کے اصول کے تحت مائیگریشن تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے میں غیر قانونی ہجرت، انسانی استحصال اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام اور ان سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس کے تحت 5 سال تک کی مدت کے لیے ملٹی پل انٹری ویزا کی سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ ہر سفر کے دوران 6 ماہ تک قیام کی اجازت دی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ طلبہ کے لیے ایک سال کی مدت والے قابلِ تجدید پرمٹ کا انتظام بھی تجویز کیا گیا ہے۔
نوجوان پیشہ ور افراد کے تبادلے پر بھی اتفاق
دونوں ممالک نے نوجوان پیشہ ور افراد کے تبادلے کے لیے بھی ایک معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔ ینگ پروفیشنلز اسکیم (YPS) کے تحت دونوں ممالک کے نوجوان پیشہ ور افراد محدود مدت کے لیے دوسرے ملک میں کام کرسکیں گے۔ اس کا مقصد نوجوانوں کو اپنے پیشہ ورانہ شعبے میں عملی تجربہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ زبان اور عملی مہارتیں بہتر بنانے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ہر سال دونوں ممالک سے 300-300 نوجوان پیشہ ور افراد کے تبادلے کی گنجائش ہوگی۔ ضرورت اور باہمی رضامندی کی بنیاد پر یہ تعداد بڑھا کر 500 تک کی جا سکتی ہے۔ قومیت اور رہائش کی حیثیت کی تصدیق کے لیے 30 سے 90 دن کی مدت بھی مقرر کی گئی ہے۔
ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے میں تعاون
بھارت اور سوئٹزرلینڈ نے ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجی، موبیلٹی سسٹمز اور بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے بھی ایک معاہدہ کیا ہے۔ یہ معاہدہ بھارت کی وزارتِ سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہوں اور سوئٹزرلینڈ کے فیڈرل ڈپارٹمنٹ آف اکنامک افیئرز، ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے درمیان ہوا ہے۔ اس کے تحت پائیدار بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر زور دیا جائے گا۔ الیکٹرک گاڑیوں، روپ وے، سرکلر اکانومی، سرنگوں اور ٹرانسپورٹ کے دیگر شعبوں میں نئی ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے دونوں ممالک مل کر کام کریں گے۔
سائنسی تحقیق اور اسٹارٹ اپس پر بھی توجہ
سائنسی تحقیق کے شعبے میں بھی دونوں ممالک نے طویل مدتی تعاون کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی ہے۔ بھارت کے محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی اور سوئس نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کے درمیان لیٹر آف انٹینٹ پر اتفاق ہوا ہے۔ اس کا مقصد دونوں ممالک کے محققین کے درمیان سائنسی تعاون کو فروغ دینا، نئی مشترکہ تحقیقی شراکت داری قائم کرنا اور مشترکہ ترجیحی شعبوں میں طویل مدتی سائنسی منصوبوں کے لیے ایک وسیع فریم ورک تیار کرنا ہے۔ اسٹارٹ اپس اور کاروباری سرگرمیوں کے شعبے میں بھی تعاون آگے بڑھانے کا منصوبہ ہے۔ محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی اور زیورخ یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز کے درمیان جدت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور انٹرپرینیورشپ کے سلسلے میں ایک امپلی مینٹیشن ارینجمنٹ طے کیا گیا ہے۔ اس کے تحت ابتدائی مرحلے کے اسٹارٹ اپس کے لیے انڈو-سوئس اکیڈمیا-انڈسٹری ٹریننگ (AIT انڈیا) پروگرام کو آگے بڑھایا جائے گا۔ اس میں دونوں ممالک کے درمیان تبادلہ، مشترکہ ورکشاپس، صلاحیت سازی اور نیٹ ورکنگ شامل ہوگی۔
تحقیق کے لیے نئے فلیگ شپ پروگرام کا اعلان
دونوں ممالک نے بھارت-سوئٹزرلینڈ تحقیقی تعاون کو مزید وسیع کرنے کے لیے ایک نئے فلیگ شپ پروگرام کے آغاز کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس کا افتتاحی اجلاس وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے تعاون سے منعقد کیا جائے گا۔ یہ معاہدے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب بھارت اور سوئٹزرلینڈ اپنے اقتصادی تعلقات کو بھی نئی رفتار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن (EFTA) کے ممالک میں سوئٹزرلینڈ بھارت کا سب سے بڑا تجارتی اور سرمایہ کاری شراکت دار ہے۔
وزیر اعظم مودی اور سوئس صدر کے درمیان دوطرفہ مذاکرات
سوئس صدر کے 5 سے 7 اکتوبر تک جاری سرکاری دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا دائرہ وسیع کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور سوئس صدر نے پیر کو نئی دہلی میں دوطرفہ مذاکرات کیے، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، سائنس، ٹیکنالوجی، جدت، موبیلٹی اور عوامی روابط سمیت متعدد امور پر تبادلۂ خیال ہوا۔ مجموعی طور پر ان پیش رفتوں سے اشارہ ملتا ہے کہ بھارت-سوئٹزرلینڈ تعلقات اب روایتی تجارتی شراکت داری سے آگے بڑھ کر عوامی روابط، ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدت کو جوڑنے والی ایک وسیع تر شراکت داری کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



