Bharat Express DD Free Dish

bilateral cooperation

وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلان کیا کہ بھارت کے ممتاز تعلیمی ادارے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) بنگلورو کا کیمپس انڈونیشیا میں قائم کیا جائے گا، جس سے پورے آسیان خطے کے نوجوان مستفید ہوں گے۔

وزیراعظم مودی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر سمندری راستوں کے تحفظ اور ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ بھارت جی-7 سربراہ اجلاس میں شراکت دار ملک کے طور پر شریک ہے اور آؤٹ ریچ عمل میں یہ اس کی 13ویں شرکت ہے۔

براتسلاوا میں مشترکہ پریس بیان سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ لیبر مائیگریشن سے متعلق مفاہمتی یادداشت دونوں ممالک کے درمیان پیشہ ور افراد اور ہنرمند کارکنوں کی نقل و حرکت کو آسان بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ وزیراعظم رابرٹ فیکو نے بھارت کی تیز رفتار معاشی ترقی، ڈیجیٹل تبدیلی اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں کامیابیوں کی بھرپور تعریف کی۔

صدر لی جے میونگ نے اس امید کا اظہار کیا کہ بھارت اور جنوبی کوریا اقتصادی تعاون، جدید ٹیکنالوجی، اختراع، تجارت اور عالمی امور میں اشتراک کو مزید فروغ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات خطے میں استحکام اور خوشحالی کے لیے بھی اہم ہیں۔

کینیا کے صدر نے بھارت اور کینیا کے درمیان مضبوط اور دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک بھارت کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کے مشترکہ مفادات کے پیشِ نظر باہمی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

مالدیپ کے صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ مسلسل مدتِ اقتدار کے اعتبار سے ہندوستان کے طویل ترین منتخب وزیر اعظم بننا ایک غیر معمولی سنگِ میل ہے، جو وزیر اعظم مودی کی قیادت پر ہندوستانی عوام کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

نریندر مودی کے اس دورے کو بھارت اور نیدرلینڈ کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تزویراتی اور تکنیکی تعاون کو نئی رفتار ملنے کی توقع ہے۔

بھارتی سفارت خانے کے مطابق، اجیت ڈووال نے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے نیک خواہشات بھی پیش کیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید گہرا کرنے، علاقائی سکیورٹی اور دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ٹو لام اس سے پہلے مئی 2024 سے اکتوبر 2024 تک بھی ویتنام کے صدر رہ چکے ہیں۔ انہیں 2024 میں پارٹی کی مرکزی قیادت میں اہم عہدہ دیا گیا تھا اور جنوری 2026 میں دوبارہ اسی ذمہ داری کے لیے منتخب کیا گیا۔ ٹو لام کے صدر بننے کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ بھارت اور ویتنام کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعاون مزید مضبوط ہوگا اور خطے میں استحکام کو فروغ ملے گا۔

2006 میں گجرات میں زرعی اختراعات کے ایک مخصوص مشن کے طور پر شروع ہونے والا یہ سفر اب ٹیکنالوجی، باہمی اعتماد اور مشترکہ وژن کی بنیاد پر ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہو چکا ہے۔ یہ شراکت داری نہ صرف زراعت بلکہ دفاع، ڈیجیٹل معیشت، اختراع اور جدید صنعت کاری کے میدانوں میں بھی دونوں ممالک کو قریب لا رہی ہے۔