Bharat Express DD Free Dish

West Asia crisis: جی-7 سربراہ اجلاس کے موقع پر وزیراعظم مودی اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان ملاقات متوقع، مغربی ایشیا، توانائی اور تجارتی معاہدے پربات چیت کا امکان

وزیراعظم مودی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر سمندری راستوں کے تحفظ اور ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ بھارت جی-7 سربراہ اجلاس میں شراکت دار ملک کے طور پر شریک ہے اور آؤٹ ریچ عمل میں یہ اس کی 13ویں شرکت ہے۔

ایویان، فرانس: وزیراعظم نریندر مودی اور امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان جی-7 سربراہ اجلاس کے موقع پر آج ایک اہم دوطرفہ ملاقات متوقع ہے، جس میں مغربی ایشیا کی صورتحال، آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت، امریکہ سے توانائی کی درآمدات اور مجوزہ بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے سمیت کئی اہم موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

توانائی شراکت داری پر خصوصی توجہ

ذرائع کے مطابق دونوں ممالک طویل مدتی توانائی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔ ملاقات کے دوران توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر گفتگو متوقع ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مغربی ایشیا میں کشیدگی کے باعث عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور مذاکرات مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔ توقع ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں اس معاہدے کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔

تجارتی معاہدے پر پیش رفت

دونوں ممالک نے تقریباً ایک سال تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد رواں سال فروری میں ایک عبوری تجارتی معاہدہ طے کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس پہلے ہی تصدیق کر چکا ہے کہ مودی اور ٹرمپ کی متوقع ملاقات میں مجوزہ بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کو آگے بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تشویش

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب آبنائے ہرمز میں عدم استحکام عالمی توانائی منڈیوں اور سمندری تجارت کو متاثر کر رہا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار کی ترسیل ہوتی ہے۔ منگل کو جی-7 سربراہ اجلاس کے دوران ’’نئی شراکت داریاں قائم کرنے اور بین الاقوامی یکجہتی کی بحالی‘‘ کے عنوان سے منعقدہ آؤٹ ریچ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے آبنائے ہرمز کے ذریعے سمندری تجارت میں رکاوٹوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

وزیراعظم مودی کا عالمی رہنماؤں سے خطاب

وزیر اعظم مودی نے جی-7 رہنماؤں، بشمول صدر ڈونالڈ ٹرمپ، سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ایشیا میں امن کی کوششوں میں پیش رفت کا خیرمقدم کیا جاتا ہے، تاہم حالیہ تنازع نے خطے کے دوست ممالک میں جان و مال کا بڑا نقصان کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’مغربی ایشیا میں امن کی کوششوں میں ہونے والی پیش رفت کا ہم خیرمقدم کرتے ہیں۔ اس تنازع کے باعث ہمارے دوست ممالک میں جان و مال کا نقصان ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے سمندری تجارت میں خلل نے عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے، جبکہ کئی بھارتی شہری بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔‘‘

ملاحوں کی سلامتی پر زور

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ عالمی تنازعات کا پائیدار حل صرف مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے عالمی سمندری تجارت سے وابستہ ملاحوں کی سلامتی کو بھی اجتماعی ذمہ داری قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’دنیا کے مختلف ممالک کو جوڑنے والے ملاحوں کی حفاظت ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ سمندری راستے محفوظ رہیں اور ملاح بلا خوف و خطر اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔‘‘

خلیج عمان کے واقعے کا حوالہ

وزیراعظم مودی کے یہ خیالات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حال ہی میں خلیج عمان میں ایک بحری واقعے کے دوران تین بھارتی شہری ہلاک ہوگئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق پالاؤ کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر، جس پر مختلف ممالک کے عملے کے افراد سوار تھے، ایرانی تیل کی مبینہ نقل و حمل کے دوران امریکی کارروائی کی زد میں آ گیا تھا۔

عالمی تعاون کے لیے بھارت کا عزم

وزیراعظم مودی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر سمندری راستوں کے تحفظ اور ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ بھارت جی-7 سربراہ اجلاس میں شراکت دار ملک کے طور پر شریک ہے اور آؤٹ ریچ عمل میں یہ اس کی 13ویں شرکت ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read