PM Modi Meets Iran President:بشکیک میں وزیر اعظم مودی اور ایرانی صدر کی ملاقات، مغربی ایشیا کی صورتحال پر تبادلہ خیال
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ ملاقات میں ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سمیت کئی اعلیٰ ایرانی حکام بھی موجود تھے۔
Strait of Hormuz: مغربی ایشیا کے بحران کے درمیان مودی حکومت کا بڑا دعویٰ، آبنائے ہرمز سے دو چار نہیں، پورے 62 جہاز بحفاظت گزرے
3 اگست تک خلیجی خطے سے 4,052 ہندوستانی ملاح واپس لائے گئے۔ گزرنے والے جہازوں میں 23 ہندوستانی پرچم بردار اور 39 غیر ملکی پرچم والے جہاز شامل۔ بحیرۂ اسود اور باب المندب کے لیے بھی ایڈوائزری جاری کردی گئی ہے۔
PM Modi’s High-Level Meeting on West Asia Crisis: مغربی ایشیا کے بحران پر وزیر اعظم مودی کی ہائی لیول میٹنگ، توانائی، کھاد اور بھارتی شہریوں کی سلامتی پر خصوصی توجہ
اجلاس میں تنازع سے متاثرہ علاقوں میں ملکی اور غیر ملکی جہازوں پر خدمات انجام دینے والے بھارتی سمندری اہلکاروں کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ وزیر اعظم مودی نے ہدایت دی کہ ایسا مؤثر نظام قائم کیا جائے جس کے ذریعے ان اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو بروقت معلومات، ہنگامی امداد اور ضروری رہنمائی فراہم کی جا سکے۔
West Asia Crisis PM Modi High Level Meeting: وزیراعظم مودی کی اعلیٰ سطحی میٹنگ، توانائی کے تحفظ، تیل کی سپلائی اور بھارتی ملاحوں کی سلامتی پر اہم غور و خوض
مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان وزیرِ اعظم نریندر مودی نے سینئر کابینہ وزراء اور قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) اجیت ڈووال کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کیا۔ اس میٹنگ میں توانائی کے تحفظ، آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال، بھارتی ملاحوں کی سلامتی اور خام تیل کی سپلائی سے متعلق معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
Iran-US Conflict: ایران-امریکہ تنازع: مغربی ایشیا کے بحران کے درمیان مودی حکومت نے اپنے معاشی اور تزویراتی مفادات کا تحفظ کیا
امریکہ اور ایران کے درمیان تقریباً سو دن سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے تنازع کے بعد بالآخر دونوں ممالک کے درمیان سمجھوتہ ہو گیا ہے۔ اگرچہ فریقین نے حملے روک دیے ہیں اور آبنائے ہرمز دوبارہ فعال ہو چکی ہے، تاہم 28 فروری سے 18 جون تک جاری اس کشیدگی کے اثرات پوری دنیا نے محسوس کیے۔ اس دوران مودی حکومت نے اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے متعدد اہم تزویراتی اور معاشی اقدامات کیے۔
West Asia crisis: جی-7 سربراہ اجلاس کے موقع پر وزیراعظم مودی اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان ملاقات متوقع، مغربی ایشیا، توانائی اور تجارتی معاہدے پربات چیت کا امکان
وزیراعظم مودی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر سمندری راستوں کے تحفظ اور ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ بھارت جی-7 سربراہ اجلاس میں شراکت دار ملک کے طور پر شریک ہے اور آؤٹ ریچ عمل میں یہ اس کی 13ویں شرکت ہے۔
Neither War Nor Peace Policy: ملک کے مفاد میں نہیں ہے جنگ لیکن دباؤ میں کبھی نہیں جھکے گا ایران، نہ جنگ، نہ امن کی پالیسی سے ہمیں نکلنا ہوگا باہر: صدر مسعود پزشکیان
ایرانی صدر نے گزشتہ 100 دنوں کے دوران ایرانی خواتین کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی سرگرم موجودگی نے ایران کے دشمنوں کے تمام اندازے غلط ثابت کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین یہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے اقدامات سے ایرانی انقلاب کمزور ہو جائے گا، لیکن خواتین کی فعال شرکت نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
PM Modi Meeting: غیر ملکی دورے سے واپسی پر وزیر اعظم مودی کی اہم میٹنگ، بڑے فیصلوں کا امکان
ذرائع کے مطابق اجلاس میں مغربی ایشیا کے بحران کے اثرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر خام تیل، گیس اور توانائی سپلائی سے متعلق صورتحال حکومت کی ترجیحات میں شامل رہے گی۔ حالیہ دنوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں کو لے کر بھی مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
West Asia conflict: برکس اجلاس میں ایران کی امریکہ اور اسرائیل پر سخت تنقید، عالمی برادری سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کی مذمت کا مطالبہ
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ برکس ایک زیادہ متوازن اور منصفانہ عالمی نظام کی تشکیل میں مرکزی ستون بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں برکس ممالک کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔
Amit Shah Reduces Convoy Size: وزیراعظم مودی کی اپیل کے بعد وزیرداخلہ امت شاہ نے قافلے میں کی کمی، مغربی ایشیا بحران کے درمیان ایندھن بچت پربڑا اقدام
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے حکام کو یہ ہدایت بھی دی ہے کہ جہاں ممکن ہو ان کے قافلے میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کو شامل کیا جائے۔ تاہم اس مقصد کے لیے نئی گاڑیوں کی خریداری نہیں کی جائے گی، بلکہ موجودہ وسائل ہی استعمال کیے جائیں گے۔





