جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی سپلائی چین شدید متاثر ہو رہی تھی، جس کے پیش نظر بھارت نے اپنی تجارتی حکمت عملی میں تیزی سے تنوع پیدا کیا۔ امریکہ کے ساتھ بعض معاملات میں کشیدگی اور مغربی ایشیا کے بحران کے باوجود بھارت نے یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دی۔ اس کے علاوہ فروری 2026 میں بھارت اور امریکہ کے درمیان بھی ایک اہم تجارتی معاہدہ طے پایا۔
بھارت نے تجارت اور توانائی کے متبادل ذرائع پر توجہ مرکوز کی
اسی مہینے بھارت نے خلیج تعاون کونسل (GCC)، جس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، کویت اور بحرین شامل ہیں، کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کے لیے ’’ٹرمز آف ریفرنس‘‘ پر دستخط کیے۔ مغربی ایشیا میں سپلائی کے خدشات کے پیش نظر بھارت نے سفارتی دباؤ کے باوجود روس سے خام تیل کی درآمدات میں اضافہ کیا تاکہ توانائی کی ضروریات متاثر نہ ہوں۔
وزیراعظم مودی کے سفارتی دورے، نئے اتحاد اور متبادل شراکت داریوں پر زور
ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے عالمی سطح پر بھارت کے مفادات کے تحفظ اور نئے شراکتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف ممالک کے دورے کیے۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے قبل انہوں نے ملائیشیا کا دورہ کیا، جہاں تجارت اور پام آئل کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے پر توجہ دی گئی۔حملوں کے آغاز سے قبل وزیر اعظم مودی اسرائیل بھی گئے، جہاں دفاعی تعاون اور خطے میں تزویراتی توازن برقرار رکھنے پر تبادلہ خیال ہوا۔ بعد ازاں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑے حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
مئی 2026 میں، جب تنازع اپنے عروج پر تھا، وزیر اعظم مودی نے متحدہ عرب امارات، نیدرلینڈز، سویڈن، ناروے اور اٹلی کا دورہ کیا۔ یو اے ای کے ساتھ توانائی کی فراہمی کے معاملات پر بات چیت ہوئی، جبکہ اٹلی سمیت یورپی ممالک کے ساتھ مشترکہ تزویراتی ایکشن پلان کے تحت اہم معدنیات اور دفاعی شعبے میں تعاون کے معاہدے کیے گئے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان سمجھوتے سے قبل مودی نے فرانس اور سلوواکیہ کا بھی دورہ کیا۔ نئی تجارتی شراکت داریوں، توانائی کے متبادل ذرائع اور متوازن سفارت کاری کے ذریعے بھارت نے یہ واضح پیغام دیا کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں اس کی حکمت عملی صرف نقصانات سے بچنے تک محدود نہیں، بلکہ نئے مواقع سے فائدہ اٹھانا بھی اس کا اہم مقصد ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
