Iran Regime Change Failure Trump Netanyahu: ایران میں اقتدار کی تبدیلی کے لیے نکلے تھے ٹرمپ اور نیتن یاہو، اب اپنی ہی کرسی بچانے کا چیلنج!
ایران میں اقتدار کی تبدیلی کی ٹرمپ اور نیتن یاہو کی کوشش کیوں ناکام ہوئی؟ خامنہ ای کے بعد بھی نظام کیسے برقرار رہا اور اب امریکہ و اسرائیل میں دونوں لیڈرؤں کی سیاسی مشکلات کیوں بڑھ گئی ہیں؟ جانیے پوری کہانی۔
China Extends Support to Tehran: امریکہ سے جنگ ختم کرنے کے لیے ایران نے رکھیں 7 شرائط، چین نے بھی کیا تہران کی حمایت کا اعلان
ایران نے واضح اشارہ دیا ہے کہ اب اگلا قدم امریکہ کو اٹھانا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے اور جنگ ختم کرنے کے لیے ایک مسودہ تجویز بھی سامنے آ چکی ہے۔خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، مذاکرات سے واقف ایک ذریعے نے بتایا کہ ایران کے مذاکرات کار اتوار کو دوحہ سے روانہ ہو گئے۔
Iran Restarts Nuclear and Missile Program: ایران نے جوہری اور میزائل پروگرام پھر کیا شروع ، سابق امریکی جنرل کی وارننگ
سیٹلائٹ تصاویر میں ایران کی متعدد تنصیبات پر سرگرمیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ان میں نتنز جوہری مرکز کے قریب واقع پیکیکس ماؤنٹین کمپلیکس بھی شامل ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس مقام پر زیر زمین تنصیب سطح زمین سے 300 فٹ سے زیادہ گہرائی میں واقع ہے۔ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان اس مقام کو خاص طور پر حساس سمجھا جا رہا ہے۔
Elon Musk Starlink Iran War: ایلون مسک کی اسٹارلنک پر ایران کا سخت انتباہ، ’جنگ کا ہتھیار‘ قرار دے دیا؛ استعمال کرنے والوں کو سزائے موت تک کی وارننگ
ایران نے اسٹارلنک کے استعمال اور اس کے آلات کی خرید و فروخت پر سخت پابندیوں کا انتباہ دیا، قومی سلامتی اور جاسوسی سے متعلق الزامات ثابت ہونے پر سخت سزا کا امکان
Iran US Crisis: ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو جائے گی، توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے آئے گی گراوٹ: ٹرمپ کا نیا دعویٰ
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یہ دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں خام تیل اور قدرتی گیس دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچائی جاتی ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اس وقت وہاں سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیل باہر جا رہا ہے۔ان کے مطابق، امریکی بحریہ کی کارروائیوں کی وجہ سے یہ صورت حال ممکن ہوئی ہے۔
Iran War has cost US consumers an estimated $265 billion since late February: ایران جنگ کے باعث امریکہ کے اوسط خاندان پر اب تک تقریباً 2,000 ڈالر کا اضافی مالی بوجھ پڑا، موڈیز کی رپورٹ
موڈیز کے تخمینے میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود بڑھانے کے اثرات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ زینڈی کے مطابق، جنگ شروع ہونے سے پہلے مقررہ شرح والے ہوم لون کی شرح سود 6 فیصد سے کم تھی، جو اب بڑھ کر تقریباً 7.5 فیصد ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ شرح سود میں اضافے کے باعث امریکی معیشت کو فی خاندان تقریباً 540 ڈالر کا اضافی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ قرض مہنگے ہونے سے گھر خریدنے والوں اور دیگر قرض لینے والوں کے مالی اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔
Iran IRGC Warns US: ایران کے آئی آر جی سی کا امریکی صدر ٹرمپ کو انتباہ، جنگ ہوئی تو تباہی بحر ہند تک پھیلے گی
ایران امریکہ کشیدگی: آئی آر جی سی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے نیا حملہ کیا تو بحر ہند میں تعینات امریکی جنگی جہاز بھی محفوظ نہیں رہیں گے، تاہم ایران نے مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔
US Navy Uses Laser Weapons: گیمنگ کنٹرولر سے تباہ ہوں گے ایرانی ڈرون! آبنائے ہرمز میں امریکہ نے تعینات کیے ’غیر مرئی‘ لیزر ہتھیار
امریکی فوج ہائی انرجی لیزر ٹیکنالوجی کو حقیقی آپریشنز میں استعمال کر رہی ہے، ڈرونز کے خلاف ایک لیزر حملے کی لاگت روایتی انٹرسیپٹر میزائلوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہوسکتی ہے
Iran on Hormuz: آبنائے ہرمز کھولنے کے لئے ایران تیار، امریکا کے سامنے رکھی صرف ایک شرط، 7 دن میں ختم ہو سکتا ہے بحران، دنیا کو ملے گی بڑی راحت
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے پر رضامند ہوجائے تو آبنائے ہرمز کو سات دن کے اندر مکمل طور پر کھولا جاسکتا ہے، تہران نے سفارتی حل کے لیے واشنگٹن سے باضابطہ یقین دہانی بھی مانگی ہے۔
Iran US Conflict: ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہونے کا دعویٰ جھوٹا؟ وائٹ ہاؤس کی وارننگ نظرانداز کر رہے ٹرمپ، طویل جنگ سے امریکی فوج اور تیل بازار پر دباؤ
وال اسٹریٹ جرنل نے بدھ کو امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دیگر اعلیٰ حکام نے ٹرمپ کے ساتھ جنگ کے طویل عرصے تک جاری رہنے کے امکان پر بات چیت کی ہے۔رپورٹ کے مطابق، ایران امریکی دباؤ، ناکہ بندی اور دیگر فوجی اقدامات کے باوجود پیچھے ہٹنے سے انکار کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ تنازع جنوری 2029 میں ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے اختتام تک بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔





