Bharat Express DD Free Dish

Iran US Conflict

امریکی فوج ہائی انرجی لیزر ٹیکنالوجی کو حقیقی آپریشنز میں استعمال کر رہی ہے، ڈرونز کے خلاف ایک لیزر حملے کی لاگت روایتی انٹرسیپٹر میزائلوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہوسکتی ہے

ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے پر رضامند ہوجائے تو آبنائے ہرمز کو سات دن کے اندر مکمل طور پر کھولا جاسکتا ہے، تہران نے سفارتی حل کے لیے واشنگٹن سے باضابطہ یقین دہانی بھی مانگی ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل نے بدھ کو امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دیگر اعلیٰ حکام نے ٹرمپ کے ساتھ جنگ کے طویل عرصے تک جاری رہنے کے امکان پر بات چیت کی ہے۔رپورٹ کے مطابق، ایران امریکی دباؤ، ناکہ بندی اور دیگر فوجی اقدامات کے باوجود پیچھے ہٹنے سے انکار کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ تنازع جنوری 2029 میں ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے اختتام تک بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔

India LPG Import: خلیجی ممالک سے سپلائی متاثر ہونے کے بعد ہندوستان نے LPG درآمد کے لیے امریکہ پر اپنا انحصار بڑھا دیا ہے۔

 ٹرمپ نے ایران کے ’پک ایکس ماؤنٹین‘ پر حملے کی وارننگ دی ہے۔ جانیں ایران کا یہ زیرِ زمین ٹھکانہ کیوں اہم ہے اور اسے تباہ کرنا اتنا مشکل کیوں سمجھا جاتا ہے۔

ایرانی چیف جسٹس نے کہا کہ غزہ میں بڑی تعداد میں لوگوں کی ہلاکت کے علاوہ اس سے کئی گنا زیادہ افراد زخمی ہوئے اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’’دہشت گرد اسرائیل نے غزہ میں 70,000 سے زائد خواتین اور بچوں کا قتل عام کیا، لاکھوں لوگوں کو زبردستی بے گھر کیا اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد سے کئی گنا زیادہ افراد کو زخمی کیا۔‘‘

ایران میں جاری فوجی کارروائی کے دوران امریکی فوجیوں کی ہلاکت سے متعلق بیان پر امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لوٹنک نے معافی مانگتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ ان سے بڑی غلطی ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انٹرویو کے دوران انہوں نے غلط معلومات فراہم کر دی تھیں۔

ایران کے جنوبی علاقے کوہستک میں شادی کی تقریب کے دوران ایک میزائل یا ڈرون کا ملبہ رہائشی مکان پر گرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واقعے میں ایک بچے سمیت 5 افراد ہلاک جبکہ 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے فوجی کارروائی کے بجائے اقتصادی دباؤ بڑھانے پر توجہ دینے کی بات کہی تھی۔ اس حکمت عملی کے تحت ان ممالک اور اداروں کے خلاف کارروائی کی دھمکی دی جا رہی ہے جو تہران کے ساتھ تجارت جاری رکھیں گے۔

ایران کے قونصل جنرل سعید رضا موسوی موتلاغ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ایران کو فوجی ذرائع سے نقصان پہنچانے میں ناکام رہا، اس لیے اب معاشی دباؤ کا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے امریکی اقدامات کو ’معاشی دہشت گردی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام اس طرح کے دباؤ کے لیے پہلے ہی تیار ہیں۔