Bharat Express DD Free Dish

Iran US Conflict

ایران میں اقتدار کی تبدیلی کی ٹرمپ اور نیتن یاہو کی کوشش کیوں ناکام ہوئی؟ خامنہ ای کے بعد بھی نظام کیسے برقرار رہا اور اب امریکہ و اسرائیل میں دونوں لیڈرؤں کی سیاسی مشکلات کیوں بڑھ گئی ہیں؟ جانیے پوری کہانی۔

ایران نے واضح اشارہ دیا ہے کہ اب اگلا قدم امریکہ کو اٹھانا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے اور جنگ ختم کرنے کے لیے ایک مسودہ تجویز بھی سامنے آ چکی ہے۔خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، مذاکرات سے واقف ایک ذریعے نے بتایا کہ ایران کے مذاکرات کار اتوار کو دوحہ سے روانہ ہو گئے۔

سیٹلائٹ تصاویر میں ایران کی متعدد تنصیبات پر سرگرمیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ان میں نتنز جوہری مرکز کے قریب واقع پیکیکس ماؤنٹین کمپلیکس بھی شامل ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس مقام پر زیر زمین تنصیب سطح زمین سے 300 فٹ سے زیادہ گہرائی میں واقع ہے۔ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان اس مقام کو خاص طور پر حساس سمجھا جا رہا ہے۔

ایران نے اسٹارلنک کے استعمال اور اس کے آلات کی خرید و فروخت پر سخت پابندیوں کا انتباہ دیا، قومی سلامتی اور جاسوسی سے متعلق الزامات ثابت ہونے پر سخت سزا کا امکان

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یہ دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں خام تیل اور قدرتی گیس دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچائی جاتی ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اس وقت وہاں سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیل باہر جا رہا ہے۔ان کے مطابق، امریکی بحریہ کی کارروائیوں کی وجہ سے یہ صورت حال ممکن ہوئی ہے۔

موڈیز کے تخمینے میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود بڑھانے کے اثرات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ زینڈی کے مطابق، جنگ شروع ہونے سے پہلے مقررہ شرح والے ہوم لون کی شرح سود 6 فیصد سے کم تھی، جو اب بڑھ کر تقریباً 7.5 فیصد ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ شرح سود میں اضافے کے باعث امریکی معیشت کو فی خاندان تقریباً 540 ڈالر کا اضافی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ قرض مہنگے ہونے سے گھر خریدنے والوں اور دیگر قرض لینے والوں کے مالی اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔

ایران امریکہ کشیدگی: آئی آر جی سی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے نیا حملہ کیا تو بحر ہند میں تعینات امریکی جنگی جہاز بھی محفوظ نہیں رہیں گے، تاہم ایران نے مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

امریکی فوج ہائی انرجی لیزر ٹیکنالوجی کو حقیقی آپریشنز میں استعمال کر رہی ہے، ڈرونز کے خلاف ایک لیزر حملے کی لاگت روایتی انٹرسیپٹر میزائلوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہوسکتی ہے

ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے پر رضامند ہوجائے تو آبنائے ہرمز کو سات دن کے اندر مکمل طور پر کھولا جاسکتا ہے، تہران نے سفارتی حل کے لیے واشنگٹن سے باضابطہ یقین دہانی بھی مانگی ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل نے بدھ کو امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دیگر اعلیٰ حکام نے ٹرمپ کے ساتھ جنگ کے طویل عرصے تک جاری رہنے کے امکان پر بات چیت کی ہے۔رپورٹ کے مطابق، ایران امریکی دباؤ، ناکہ بندی اور دیگر فوجی اقدامات کے باوجود پیچھے ہٹنے سے انکار کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ تنازع جنوری 2029 میں ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے اختتام تک بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔