Bharat Express DD Free Dish

Iran US Conflict

ایران میں جاری فوجی کارروائی کے دوران امریکی فوجیوں کی ہلاکت سے متعلق بیان پر امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لوٹنک نے معافی مانگتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ ان سے بڑی غلطی ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انٹرویو کے دوران انہوں نے غلط معلومات فراہم کر دی تھیں۔

ایران کے جنوبی علاقے کوہستک میں شادی کی تقریب کے دوران ایک میزائل یا ڈرون کا ملبہ رہائشی مکان پر گرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واقعے میں ایک بچے سمیت 5 افراد ہلاک جبکہ 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے فوجی کارروائی کے بجائے اقتصادی دباؤ بڑھانے پر توجہ دینے کی بات کہی تھی۔ اس حکمت عملی کے تحت ان ممالک اور اداروں کے خلاف کارروائی کی دھمکی دی جا رہی ہے جو تہران کے ساتھ تجارت جاری رکھیں گے۔

ایران کے قونصل جنرل سعید رضا موسوی موتلاغ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ایران کو فوجی ذرائع سے نقصان پہنچانے میں ناکام رہا، اس لیے اب معاشی دباؤ کا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے امریکی اقدامات کو ’معاشی دہشت گردی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام اس طرح کے دباؤ کے لیے پہلے ہی تیار ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھانے کی تیاری کر لی ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کو کسی بھی طرح کی اقتصادی یا مالی مدد فراہم کرنے والے ممالک، کاروباری اداروں اور مالیاتی اداروں کو بھی سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی ایران کے خلاف ’’تاریخ کی سخت ترین پابندیوں‘‘ کی بات کہی ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اس وقت طاقت اور عزت کی پوزیشن میں ہے اور پوری دنیا ایران کی فتح کو تسلیم کر رہی ہے۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر یہ بات بھی سامنے آ رہی ہے کہ امریکا نے تمام اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے اسکولوں، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔پزشکیان نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں پر دنیا بھر میں امریکا کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

فروری کو مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد ایران کے حملوں کا سب سے زیادہ اثر یو اے ای پر پڑنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ بتایا گیا کہ ایران نے یو اے ای کی سمت تقریباً 3 ہزار میزائل اور ڈرون بھیجے تھے، جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ تعداد تھی۔اس کے بعد جون میں ایران اور یو اے ای کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت  (ایم او یو) نافذ ہوئی تھی۔

صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ نے ایران پر مجوزہ فوجی حملہ مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے کیونکہ تہران اور مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک نے اس کارروائی کو روکنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ معاہدے کا ابتدائی خاکہ تیار کر لیا گیا ہے۔ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ مکمل طور پر کارروائی کے لیے تیار تھا،

ایران نے سخت انتباہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے اس پر حملہ کیا تو اس کا جواب نہایت شدید ہوگا، جس کے اثرات پوری دنیا محسوس کرے گی۔ ایران نے اپنے ممکنہ حملوں کے لیے چھ مقامات کی ایک مبینہ فہرست بھی جاری کی ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کے جوابی حملوں کی لپیٹ میں بحرین، سعودی عرب اور کویت سمیت خطے کے کئی اہم مقامات آ سکتے ہیں۔

سنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق او سی ایچ اے نے بتایا کہ تالابوں، پمپنگ اسٹیشنوں، ٹیوب ویلوں اور دیگر آبی تنصیبات کی تباہی سے عوامی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں، جبکہ زراعت اور لاکھوں لوگوں کے روزگار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔او سی ایچ اے کے مطابق اب تک آٹھ لاکھ اکیس ہزار سے زیادہ افراد اپنے علاقوں میں واپس آ چکے ہیں،