Iran-US Conflict: تجارت سے شراکت داری تک… ایران سے تعلق رکھنے والے ممالک پر ٹرمپ چلائیں گے ڈنڈا، بھارت پر بھی پڑ سکتا ہے اثر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھانے کی تیاری کر لی ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کو کسی بھی طرح کی اقتصادی یا مالی مدد فراہم کرنے والے ممالک، کاروباری اداروں اور مالیاتی اداروں کو بھی سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی ایران کے خلاف ’’تاریخ کی سخت ترین پابندیوں‘‘ کی بات کہی ہے۔
Iran US War :جنگ ختم کرنے کا صحیح وقت آ گیا، ایران کا بڑا اعلان، چین کی انٹری سے جنگ کے خاتمے کی امید
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اس وقت طاقت اور عزت کی پوزیشن میں ہے اور پوری دنیا ایران کی فتح کو تسلیم کر رہی ہے۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر یہ بات بھی سامنے آ رہی ہے کہ امریکا نے تمام اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے اسکولوں، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔پزشکیان نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں پر دنیا بھر میں امریکا کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
Iran denies the missile attack: ایران کا میزائل حملے سے انکار، پھر بھی یو اے ای نے تمام کاروباری لین دین روک دی، کون کررہا ہے جنگ کی سازش؟
فروری کو مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد ایران کے حملوں کا سب سے زیادہ اثر یو اے ای پر پڑنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ بتایا گیا کہ ایران نے یو اے ای کی سمت تقریباً 3 ہزار میزائل اور ڈرون بھیجے تھے، جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ تعداد تھی۔اس کے بعد جون میں ایران اور یو اے ای کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) نافذ ہوئی تھی۔
Iran US Crisis: ٹرمپ کا ایران سے نئی بات چیت کا اعلان، خلیجی ممالک کی ثالثی کی کوششیں تیز
صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ نے ایران پر مجوزہ فوجی حملہ مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے کیونکہ تہران اور مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک نے اس کارروائی کو روکنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ معاہدے کا ابتدائی خاکہ تیار کر لیا گیا ہے۔ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ مکمل طور پر کارروائی کے لیے تیار تھا،
Iran Reveals Target List: ایران کا بڑا انتباہ، امریکہ یا اسرائیل نے حملہ کیا تو مچ جائے گی تباہی، ممکنہ اہداف کی فہرست بھی جاری
ایران نے سخت انتباہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے اس پر حملہ کیا تو اس کا جواب نہایت شدید ہوگا، جس کے اثرات پوری دنیا محسوس کرے گی۔ ایران نے اپنے ممکنہ حملوں کے لیے چھ مقامات کی ایک مبینہ فہرست بھی جاری کی ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کے جوابی حملوں کی لپیٹ میں بحرین، سعودی عرب اور کویت سمیت خطے کے کئی اہم مقامات آ سکتے ہیں۔
Lebanon, damage to water systems and other civilian infrastructure: جنوبی لبنان میں آبی ڈھانچے کو شدید نقصان، لاکھوں افراد کی صحت اور روزگار کو خطرہ، اقوام متحدہ کا اظہارِ تشویش
سنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق او سی ایچ اے نے بتایا کہ تالابوں، پمپنگ اسٹیشنوں، ٹیوب ویلوں اور دیگر آبی تنصیبات کی تباہی سے عوامی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں، جبکہ زراعت اور لاکھوں لوگوں کے روزگار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔او سی ایچ اے کے مطابق اب تک آٹھ لاکھ اکیس ہزار سے زیادہ افراد اپنے علاقوں میں واپس آ چکے ہیں،
Iran US War: امریکہ اور سعودی عرب نے عراق میں فضائی حملے ،ایران کے حمایت یافتہ PMF کے 8 جنگجو ہلاک، ایران نے جوابی کارروائی میں بیلسٹک میزائل داغے،
ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں کو روک لیا ہے۔ اگر اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس اسی بحری راستے سے گزرتی ہے۔دوسری طرف یمن کے حوثی باغیوں نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بحیرۂ احمر میں ایک سعودی آئل ٹینکر پر بیلسٹک میزائل داغا ہے۔
Petrol-Diesel Price: کیا کم ہونے والی ہیں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں؟ ٹرمپ کے ایک اعلان سے خام تیل ہوگیا سستا
ڈونالڈ ٹرمپ کے فوجی کارروائی روکنے کے اشارے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا بھارت میں بھی پٹرول اور ڈیزل سستے ہوں گے، اور خام تیل کی قیمتوں میں اس گراوٹ کا ملکی ایندھن کی قیمتوں پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
Iran US War: امریکہ-ایران کشیدگی میں کمی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد کمی
یہ گراوٹ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران خام تیل میں ہونے والی زبردست تیزی کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس عرصے میں برینٹ کروڈ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی تھی۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ تھا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں سے تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے،
Iran-US War Update: امریکا-ایران کشیدگی میں شدت، ایران کے اہم تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات، بحرین میں بھی ہائی الرٹ
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے دوران ایران کے کئی اہم اور اسٹریٹجک مقامات پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے پیش نظر بحرین میں بھی احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ عالمی توانائی کی سپلائی کو لے کر خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔





