Bharat Express DD Free Dish

Iran US Conflict

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران نے کبھی بھی اپنی دفاعی تیاریوں میں کمی نہیں کی اور اگر امریکہ کسی بھی معاہدے سے پیچھے ہٹتا ہے تو ایران پوری طاقت کے ساتھ اپنا دفاع کرے گا، ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا اور ایرانی عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے گا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ 80 سے زائد فوجی ٹھکانوں پر حملوں، آبنائے ہرمز میں بڑھتے خطرات اور تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کو مقررہ سمندری راستوں اور بین الاقوامی بحری قوانین کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ جو جہاز ان ضوابط کی خلاف ورزی کریں گے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

سال 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عسکری کارروائیوں کی مکمل ٹائم لائن سامنے آ گئی ہے۔ اس میں فروری میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے دعووں اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے لے کر جون میں کارگو بحری جہاز پر حملے اور 30 جون، منگل کو ہونے والے اہم اعلیٰ سطحی اجلاس تک کے تمام اہم واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں اس پورے تنازع کی اندرونی کہانی اور مختلف مراحل کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران جوہری تنصیبات کے بین الاقوامی معائنے کے لیے تیار ہو گیا ہے، لیکن ایران نے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ جوہری نگرانی، پابندیوں میں نرمی اور ایٹمی پروگرام پر عائد کی جانے والی حدود کے معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اب بھی شدید تعطل برقرار ہے۔ ایسے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، جس سے خطۂ مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر عدم استحکام اور تنازع کے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکہ کو اپنے بیانات انتہائی احتیاط سے دینے چاہئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی مسلح افواج ہر قسم کی صورتحال کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان تقریباً سو دن سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے تنازع کے بعد بالآخر دونوں ممالک کے درمیان سمجھوتہ ہو گیا ہے۔ اگرچہ فریقین نے حملے روک دیے ہیں اور آبنائے ہرمز دوبارہ فعال ہو چکی ہے، تاہم 28 فروری سے 18 جون تک جاری اس کشیدگی کے اثرات پوری دنیا نے محسوس کیے۔ اس دوران مودی حکومت نے اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے متعدد اہم تزویراتی اور معاشی اقدامات کیے۔

ٹرمپ نے کہا کہ 14 جون کو ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے نے ان تمام مقاصد کو پورا کیا جنہیں امریکہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی کا خاتمہ، عالمی تجارت کے لیے اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری عزائم کو محدود کرنا اس معاہدے کے بنیادی نکات ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی گزشتہ روز اس امید کا اظہار کیا تھا کہ معاہدہ "آنے والے چند دنوں" میں طے پا سکتا ہے۔ اسی طرح امریکی حکام کا کہنا ہے کہ معاہدے کے امکانات 80 سے 85 فیصد تک پہنچ چکے ہیں، اگرچہ بعض حساس نکات پر ابھی بھی بات چیت جاری ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے آخری رسومات کی تاریخ طے ہو گئی ہے۔ محرم کے باعث بدلے گئے شیڈول کے تحت 9 جولائی کو مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔