Bharat Express DD Free Dish

Iran US Conflict

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اجلاس کے اختتام کے بعد بھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ صدر ٹرمپ نے حتمی فیصلہ کیوں مؤخر کیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم نکات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں، جس کے باعث مذاکرات فیصلہ کن مرحلے تک نہیں پہنچ سکے۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے 28 فروری کو شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد اب تک کم از کم 24 ریپر ڈرون مار گرائے یا تباہ کر دیے ہیں۔ ان ڈرونز کی مجموعی مالیت تقریباً ایک ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ اس پیش رفت کو بھارت کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ بھارت نے حال ہی میں امریکہ سے 31 ایم کیو-9بی پریڈیٹر ڈرون خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔

یونیسیف کی تازہ رپورٹ کے مطابق مسلسل حملوں، بے گھری، خوف اور غیر یقینی صورتحال کے باعث تقریباً سات لاکھ ستر ہزار بچے ذہنی تناؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے اثرات مستقبل میں بھی ان کی زندگیوں پر نمایاں طور پر پڑ سکتے ہیں۔

ایران نے امریکہ کی جانب سے پیش کیے گئے 14 نکاتی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے ایک نیا مسودہ تجویز واشنگٹن کو بھیج دیا ہے۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے نئے ڈرافٹ کو مکمل طور پر رد کر دیا۔ اس کے بعد بھارت میں ایرانی سفارت خانے نے امریکی صدر کے بیان پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کے سیزفائر کے بعد ایک بار پھر کشیدگی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ دونوں جانب سے آبنائے ہرمز میں حملوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ اسی دوران ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی عوام جلد ہی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اس لڑائی میں بڑی فتح کا جشن منائیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے خاص طور پر جنوبی کوریا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ بھی اس مشن میں شامل ہو۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، “ایران نے جنوبی کوریائی جہاز کو بھی نشانہ بنایا ہے، شاید اب جنوبی کوریا کو اس آپریشن میں حصہ لینا چاہیے۔”

ایرانی خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے اسدی نے الزام لگایا کہ امریکہ کی جانب سے دیے جانے والے بیانات میڈیا حکمت عملی کے تحت ہوتے ہیں، جن کا مقصد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کو روکنا اور موجودہ اقتصادی دباؤ سے نکلنا ہے۔

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملے شروع ہونے کے بعد ایران نے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں، جس کے باعث بین الاقوامی پروازیں معطل ہو گئی تھیں۔ تاہم اب پہلی بار حملوں کے آغاز کے بعد تہران سے بین الاقوامی پروازوں کا دوبارہ آغاز کیا گیا ہے۔ امام خمینی …

ایران اور امریکہ ایک بار پھر بات چیت کے لیے تیار نظر آ رہے ہیں، تاہم اس بار وہ براہِ راست نہیں بلکہ فاصلے برقرار رکھتے ہوئے اور دوسرے درجے کے نمائندوں کے ذریعے مذاکرات کر سکتے ہیں۔ ایران کا ایک وفد پاکستان پہنچ چکا ہے، جبکہ امریکی وفد کے ہفتہ کو وہاں پہنچنے کی توقع ہے۔

دوسری جانب وزیر توانائی کرس رائٹ نے قیمتوں میں اضافے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے حکومتی موقف کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ قیمتیں بڑھی ہیں، لیکن یہ چار سال پہلے کے مقابلے میں اب بھی کم ہیں۔