نئی دہلی :امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے جاری سفارتی کوششوں میں ایک بار پھر رکاوٹ آ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ ڈیل پر حتمی فیصلہ فی الحال مؤخر کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کے ساتھ سچویشن روم میں تقریباً دو گھنٹے تک تفصیلی مشاورت کی، قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس اہم اجلاس کے بعد بھی کسی حتمی نتیجے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ جمعہ کے روز ہونے والی یہ میٹنگ تقریباً دو گھنٹے جاری رہی۔ عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ صرف اسی معاہدے پر رضامند ہوں گے جو امریکی مفادات کے مطابق ہو اور ان کی مقرر کردہ ’’ریڈ لائنز‘‘ پر پورا اترتا ہو۔ انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اجلاس کے اختتام کے بعد بھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ صدر ٹرمپ نے حتمی فیصلہ کیوں مؤخر کیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم نکات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں، جس کے باعث مذاکرات فیصلہ کن مرحلے تک نہیں پہنچ سکے۔اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے لیے چند بنیادی شرائط سامنے رکھی تھیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ قومی سلامتی کی ٹیم کے ساتھ مشاورت کے بعد وہ اس معاملے پر حتمی فیصلہ کریں گے۔
ٹرمپ کی اہم شرائط میں ایران کے افزودہ جوہری مواد (Enriched Nuclear Material) کا مکمل خاتمہ، آبنائے ہرمز کو تمام بین الاقوامی جہازوں کے لیے بغیر کسی فیس کے کھولنا اور سمندری راستوں میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو ہٹانا شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو یہ واضح ضمانت دینا ہوگی کہ وہ مستقبل میں کبھی جوہری ہتھیار یا ایٹم بم تیار نہیں کرے گا۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ کی جانب سے عائد بحری پابندیاں بھی ختم کر دی جائیں گی، بشرطیکہ ایران مذکورہ شرائط پر عمل درآمد کرے۔ ان کے مطابق ایران کے افزودہ جوہری مواد، جسے انہوں نے ’’نیوکلیئر ڈسٹ‘‘ قرار دیا، کو امریکہ، ایران اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے تعاون سے زمین کے اندر سے نکال کر مکمل طور پر تباہ کیا جائے گا۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ یہ مواد گزشتہ سال جون میں امریکی فضائی حملوں کے بعد زمین کی گہرائی میں دب گیا تھا۔دوسری جانب ایران نے ان دعوؤں سے فاصلہ اختیار کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جاری مذاکرات محدود نوعیت کے ہیں اور ان میں جوہری پروگرام کا معاملہ شامل نہیں۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریق اب بھی مذاکرات کے دائرہ کار اور بنیادی نکات پر ایک دوسرے سے مختلف مؤقف رکھتے ہیں، جس کے باعث کسی جامع معاہدے کی راہ ہموار ہوتی نظر نہیں آ رہی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




