Bharat Express DD Free Dish

Iran-US War

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یہ دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں خام تیل اور قدرتی گیس دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچائی جاتی ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اس وقت وہاں سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیل باہر جا رہا ہے۔ان کے مطابق، امریکی بحریہ کی کارروائیوں کی وجہ سے یہ صورت حال ممکن ہوئی ہے۔

موڈیز کے تخمینے میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود بڑھانے کے اثرات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ زینڈی کے مطابق، جنگ شروع ہونے سے پہلے مقررہ شرح والے ہوم لون کی شرح سود 6 فیصد سے کم تھی، جو اب بڑھ کر تقریباً 7.5 فیصد ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ شرح سود میں اضافے کے باعث امریکی معیشت کو فی خاندان تقریباً 540 ڈالر کا اضافی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ قرض مہنگے ہونے سے گھر خریدنے والوں اور دیگر قرض لینے والوں کے مالی اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔

شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور راس لفان انڈسٹریل سٹی میں توانائی کی بعض تنصیبات کو براہ راست نقصان پہنچنے کے باعث قطر کی برآمدات کا ایک اہم حصہ متاثر ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بحران کا سرکاری مالیات پر منفی اثر پڑنا فطری ہے، اسی لیے 2026 کی پہلی ششماہی میں ملک کی مجموعی آمدنی میں 42 فیصد کمی درج کی گئی۔ایران کے حملوں میں قطر کے راس لفان گیس صنعتی مرکز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی شہری نے بتایا کہ ایئرپورٹ کی سمت کالا دھواں اور آگ نظر آئی۔ اسی دوران فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ ’فلا ئٹ ریڈار 24‘ کے اعداد و شمار میں بھی متعدد پروازوں کی آمد اور روانگی میں تاخیر دکھائی گئی۔ویب سائٹ پر 3.5 سے 5 کے درمیان ڈیلے انڈیکس کا مطلب طویل تاخیر اور متعدد پروازوں کی منسوخی سمیت بڑی رکاوٹوں سے ہے۔

ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک کے کنٹرول میں رہتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔ اس سے چند گھنٹے قبل بھی IRGC نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایک اور امریکی MQ-1 ڈرون کو روک کر مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔ایران کا یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ مسلسل ایران کے فضائی دفاعی نظام کو تباہ کرنے کے دعوے کر رہی ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل نے بدھ کو امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دیگر اعلیٰ حکام نے ٹرمپ کے ساتھ جنگ کے طویل عرصے تک جاری رہنے کے امکان پر بات چیت کی ہے۔رپورٹ کے مطابق، ایران امریکی دباؤ، ناکہ بندی اور دیگر فوجی اقدامات کے باوجود پیچھے ہٹنے سے انکار کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ تنازع جنوری 2029 میں ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے اختتام تک بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز میں امریکہ سے منسلک تین بحری جہازوں اور تین آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ، امریکی فوج کی کارروائی میں ایران کے تین خام تیل کے ٹینکر تباہ ہونے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

امریکی وزیر خزانہ نے ان لوگوں کو بھی خبردار کیا جو تہران کے مطالبات کو مسترد کرنے کے ممکنہ خطرات سے خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو واشنگٹن کی طاقت کو کم کرکے نہیں دیکھنا چاہیے۔ بیسنٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایسی شرائط عائد کردی ہیں جن کے تحت ہر ایجنسی، ہر اتھارٹی اور ہر ممکنہ اقدام کا استعمال کیا جاسکتا ہے، جن کے بارے میں بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ امریکا کبھی ان کا استعمال نہیں کرے گا۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے ہفتہ کو سرکاری ٹیلی ویژن پربات چیت  کرتے ہوئے کہا کہ امریکی دعووں کے باوجود آبنائے ہرمز بند ہے اور اس وقت تک نہیں کھلے گی جب تک امریکہ اپنا رویہ بہتر نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ امریکہ کو سب سے پہلے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اس وقت طاقت اور عزت کی پوزیشن میں ہے اور پوری دنیا ایران کی فتح کو تسلیم کر رہی ہے۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر یہ بات بھی سامنے آ رہی ہے کہ امریکا نے تمام اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے اسکولوں، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔پزشکیان نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں پر دنیا بھر میں امریکا کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے