Bharat Express DD Free Dish

Iran-US War

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی شہری نے بتایا کہ ایئرپورٹ کی سمت کالا دھواں اور آگ نظر آئی۔ اسی دوران فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ ’فلا ئٹ ریڈار 24‘ کے اعداد و شمار میں بھی متعدد پروازوں کی آمد اور روانگی میں تاخیر دکھائی گئی۔ویب سائٹ پر 3.5 سے 5 کے درمیان ڈیلے انڈیکس کا مطلب طویل تاخیر اور متعدد پروازوں کی منسوخی سمیت بڑی رکاوٹوں سے ہے۔

ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک کے کنٹرول میں رہتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔ اس سے چند گھنٹے قبل بھی IRGC نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایک اور امریکی MQ-1 ڈرون کو روک کر مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔ایران کا یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ مسلسل ایران کے فضائی دفاعی نظام کو تباہ کرنے کے دعوے کر رہی ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل نے بدھ کو امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دیگر اعلیٰ حکام نے ٹرمپ کے ساتھ جنگ کے طویل عرصے تک جاری رہنے کے امکان پر بات چیت کی ہے۔رپورٹ کے مطابق، ایران امریکی دباؤ، ناکہ بندی اور دیگر فوجی اقدامات کے باوجود پیچھے ہٹنے سے انکار کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ تنازع جنوری 2029 میں ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے اختتام تک بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز میں امریکہ سے منسلک تین بحری جہازوں اور تین آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ، امریکی فوج کی کارروائی میں ایران کے تین خام تیل کے ٹینکر تباہ ہونے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

امریکی وزیر خزانہ نے ان لوگوں کو بھی خبردار کیا جو تہران کے مطالبات کو مسترد کرنے کے ممکنہ خطرات سے خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو واشنگٹن کی طاقت کو کم کرکے نہیں دیکھنا چاہیے۔ بیسنٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایسی شرائط عائد کردی ہیں جن کے تحت ہر ایجنسی، ہر اتھارٹی اور ہر ممکنہ اقدام کا استعمال کیا جاسکتا ہے، جن کے بارے میں بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ امریکا کبھی ان کا استعمال نہیں کرے گا۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے ہفتہ کو سرکاری ٹیلی ویژن پربات چیت  کرتے ہوئے کہا کہ امریکی دعووں کے باوجود آبنائے ہرمز بند ہے اور اس وقت تک نہیں کھلے گی جب تک امریکہ اپنا رویہ بہتر نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ امریکہ کو سب سے پہلے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اس وقت طاقت اور عزت کی پوزیشن میں ہے اور پوری دنیا ایران کی فتح کو تسلیم کر رہی ہے۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر یہ بات بھی سامنے آ رہی ہے کہ امریکا نے تمام اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے اسکولوں، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔پزشکیان نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں پر دنیا بھر میں امریکا کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

فروری کو مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد ایران کے حملوں کا سب سے زیادہ اثر یو اے ای پر پڑنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ بتایا گیا کہ ایران نے یو اے ای کی سمت تقریباً 3 ہزار میزائل اور ڈرون بھیجے تھے، جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ تعداد تھی۔اس کے بعد جون میں ایران اور یو اے ای کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت  (ایم او یو) نافذ ہوئی تھی۔

سروے کے نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع اور بڑھتی ہوئی پٹرول کی قیمتیں ٹرمپ انتظامیہ کے لیے بڑی سیاسی پریشانی کا باعث بن رہی ہیں۔ 80 فیصد امریکی شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایران میں امریکی فوجی مداخلت طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے،

میم کے کیپشن میں طنزیہ انداز میں کہا گیا کہ جلد ہی انہیں کچرے کے ڈبے میں چھپایا جائے گا۔ایران کی جانب سے ایک اور پوسٹ میں ٹرمپ پر مزید طنز کیا گیا۔ اس میں دعویٰ کیا گیا کہ جو شخص مبینہ طور پر بنکر میں چھپنے کی باتوں کا سامنا کر رہا تھا، وہ بالآخر اپنے دفتر میں مارا گیا، جبکہ بڑے جنگی بحری جہازوں اور جدید B-2 بمبار طیاروں پر فخر کرنے والے امریکی صدر کو آخرکار ایک فوڈ ٹرک کے ذریعے فرار ہونا پڑا،