Middle East Tensions: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، امریکی سفارت خانوں کی وارننگ، شہریوں کو محتاط رہنے اور انخلا کے لیے تیار رہنے کی ہدایت
سفارت خانوں نے امریکی شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اضافی احتیاط اختیار کریں اور ممکنہ سفری رکاوٹوں کے لیے تیار رہیں۔ انتباہ میں کہا گیا ہے کہ پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی عارضی بندش اور سفری نظام میں اچانک خلل پیدا ہونے کا امکان موجود ہے، اس لیے شہری اپنی سفری منصوبہ بندی احتیاط سے کریں۔
Iran US War: امریکہ اور سعودی عرب نے عراق میں فضائی حملے ،ایران کے حمایت یافتہ PMF کے 8 جنگجو ہلاک، ایران نے جوابی کارروائی میں بیلسٹک میزائل داغے،
ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں کو روک لیا ہے۔ اگر اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس اسی بحری راستے سے گزرتی ہے۔دوسری طرف یمن کے حوثی باغیوں نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بحیرۂ احمر میں ایک سعودی آئل ٹینکر پر بیلسٹک میزائل داغا ہے۔
Iran US War: امریکہ-ایران کشیدگی میں کمی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد کمی
یہ گراوٹ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران خام تیل میں ہونے والی زبردست تیزی کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس عرصے میں برینٹ کروڈ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی تھی۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ تھا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں سے تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے،
Iranian Foreign Minister Seyed Abbas Araghchi: ایرانی وزیر خارجہ عراقچی کی یورپی یونین سے اپیل، ایرانی تجارتی جہاز پر حملے کے معاملے میں یوکرین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ
خبر رساں ایجنسی سنہوا کے مطابق دونوں رہنماؤں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی بات چیت کی اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ایرانی وزارت خارجہ نے ایک علیحدہ بیان میں کہا کہ حملے کے معاملے پر تہران میں یوکرین کے ناظم الامور (Chargé d'Affaires) کو طلب کیا گیا
Araghchi Warns Over Rubio’s Statement: روبیو کے بیان پر ایرانی وزیر خارجہ عراقچی کی سخت وارننگ، امریکی جارحیت ٹرمپ کی مشکلات میں کرے گی اضافہ
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کے مسلسل فوجی حملے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ مفاہمتی کوششوں کی قیمت مزید بڑھا دیں گے۔ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حالیہ بیانات کو زمینی حقائق سے متصادم قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
Iran US War: ایران کے حملوں سے کویت میں خوف کی لہر، شہریوں نے کھانے پینے کا سامان ذخیرہ کرنا شروع کر دیا
اردن کی فوج نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کے 10 میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے اور ملک میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔طاسی دوران ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے اطلاع دی کہ جنوبی بندرگاہی شہروں بندر عباس اور بندر لنگہ میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
Iran US War: ایران کی سخت وارننگ، حملے نہ رکے تو امریکہ کو ایران کی جارحانہ طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا: محسن رضائی
خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ ایران نے اب تک تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ کو وسیع علاقائی یا بین الاقوامی بحران میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کی ہے، لیکن امریکہ نے صورت حال کا غلط اندازہ لگاتے ہوئے کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔
Iran US War: ایران نے شام، کویت اور عمان میں امریکی فوجی تنصیبات کو بنایا نشانہ
آئی آر جی سی نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اردن کے الازرق میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے دوران ایف-15، ایف-16 اور ایف-35 لڑاکا طیاروں کے شیلٹرز اور متعدد MQ-9 ڈرون تباہ کیے گئے۔قابل ذکر بات یہ ہےکہ ایران کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے،
Iran-US War Update: امریکا-ایران کشیدگی میں شدت، ایران کے اہم تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات، بحرین میں بھی ہائی الرٹ
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے دوران ایران کے کئی اہم اور اسٹریٹجک مقامات پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے پیش نظر بحرین میں بھی احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ عالمی توانائی کی سپلائی کو لے کر خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
Iran Attack US base in Bahrain: ایران نے بحرین میں امریکی اڈوں پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ کیا، مزید کارروائی کی دھمکی
ایران کا کہنا ہے کہ ان شرائط کی تکمیل تک کسی بھی بحری جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ آبی راستہ دنیا میں تیل کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے اس کی بندش نے عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔





