Iran US War: ایران کے حملوں سے کویت میں خوف کی لہر، شہریوں نے کھانے پینے کا سامان ذخیرہ کرنا شروع کر دیا
اردن کی فوج نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کے 10 میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے اور ملک میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔طاسی دوران ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے اطلاع دی کہ جنوبی بندرگاہی شہروں بندر عباس اور بندر لنگہ میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
Iran US War: ایران کی سخت وارننگ، حملے نہ رکے تو امریکہ کو ایران کی جارحانہ طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا: محسن رضائی
خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ ایران نے اب تک تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ کو وسیع علاقائی یا بین الاقوامی بحران میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کی ہے، لیکن امریکہ نے صورت حال کا غلط اندازہ لگاتے ہوئے کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔
Iran US War: ایران نے شام، کویت اور عمان میں امریکی فوجی تنصیبات کو بنایا نشانہ
آئی آر جی سی نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اردن کے الازرق میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے دوران ایف-15، ایف-16 اور ایف-35 لڑاکا طیاروں کے شیلٹرز اور متعدد MQ-9 ڈرون تباہ کیے گئے۔قابل ذکر بات یہ ہےکہ ایران کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے،
Iran-US War Update: امریکا-ایران کشیدگی میں شدت، ایران کے اہم تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات، بحرین میں بھی ہائی الرٹ
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے دوران ایران کے کئی اہم اور اسٹریٹجک مقامات پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے پیش نظر بحرین میں بھی احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ عالمی توانائی کی سپلائی کو لے کر خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
Iran Attack US base in Bahrain: ایران نے بحرین میں امریکی اڈوں پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ کیا، مزید کارروائی کی دھمکی
ایران کا کہنا ہے کہ ان شرائط کی تکمیل تک کسی بھی بحری جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ آبی راستہ دنیا میں تیل کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے اس کی بندش نے عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔
Iran US War: صرف فضائی حملوں سے ایران کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی، ٹرمپ کے سابق وزیر دفاع مارک ایسپر کا انتباہ
امریکہ اور ایران نے حالیہ دنوں میں ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ اقدامات میں اضافہ کیا ہے۔ امریکہ نے ایران کے کئی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے اور انہیں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے پورے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام اور خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
Iran US Conflict: آبنائے ہرمز بند ہوتے ہی امریکہ کا سخت ردعمل، ایران پر میزائل حملے، عالمی تیل سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ
ایران نے سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کو آئندہ اطلاع تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ایران نے واضح کیا ہے کہ جب تک خطے میں امریکہ کی فوجی موجودگی اور مداخلت جاری رہے گی، اس اہم بحری گزرگاہ کو دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔ تہران نے یہ انتباہ بھی دیا ہے کہ اگر اس کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں...
Iran-US Tensions: امریکہ پر ذرہ برابر بھی بھروسا نہیں، ٹرمپ کی دھمکیوں پر محمد باقر قالیباف کا سخت ردعمل،اگر معاہدہ توڑا گیا تو ایران جنگ کے لئے تیار
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران نے کبھی بھی اپنی دفاعی تیاریوں میں کمی نہیں کی اور اگر امریکہ کسی بھی معاہدے سے پیچھے ہٹتا ہے تو ایران پوری طاقت کے ساتھ اپنا دفاع کرے گا، ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا اور ایرانی عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے گا۔
Tensions Escalate Between Iran and US: ایران۔امریکہ کشیدگی میں خطرناک اضافہ، بندر عباس میں دھماکے، بحرین اور کویت نے ایرانی حملے ناکام بنانے کا کیا دعویٰ
ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور اور فوج نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بحرین، کویت اور قطر میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ تازہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ حالیہ یادداشتِ مفاہمت کی بنیاد پر ساٹھ روز کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کر رہے تھے۔
US-Iran Conflict: صرف 72 گھنٹوں میں پورا بدل گیا منظرنامہ: امریکہ۔ایران جنگ دوبارہ بھڑکنے سے تیل کی قیمتوں میں آگ، کتنی ہوا اصافہ؟
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور برینٹ کروڈ کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ اگر یہ تیزی برقرار رہی تو بھارت میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جبکہ درآمدی بل اور تجارتی خسارے میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔





