Bharat Express DD Free Dish

Iran-US War

سفارت خانوں نے امریکی شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اضافی احتیاط اختیار کریں اور ممکنہ سفری رکاوٹوں کے لیے تیار رہیں۔ انتباہ میں کہا گیا ہے کہ پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی عارضی بندش اور سفری نظام میں اچانک خلل پیدا ہونے کا امکان موجود ہے، اس لیے شہری اپنی سفری منصوبہ بندی احتیاط سے کریں۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں کو روک لیا ہے۔ اگر اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس اسی بحری راستے سے گزرتی ہے۔دوسری طرف یمن کے حوثی باغیوں نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بحیرۂ احمر میں ایک سعودی آئل ٹینکر پر بیلسٹک میزائل داغا ہے۔

یہ گراوٹ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران خام تیل میں ہونے والی زبردست تیزی کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس عرصے میں برینٹ کروڈ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی تھی۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ تھا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں سے تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے،

خبر رساں ایجنسی سنہوا کے مطابق دونوں رہنماؤں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی بات چیت کی اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ایرانی وزارت خارجہ نے ایک علیحدہ بیان میں کہا کہ حملے کے معاملے پر تہران میں یوکرین کے ناظم الامور (Chargé d'Affaires) کو طلب کیا گیا

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کے مسلسل فوجی حملے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ مفاہمتی کوششوں کی قیمت مزید بڑھا دیں گے۔ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حالیہ بیانات کو زمینی حقائق سے متصادم قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

اردن کی فوج نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کے 10 میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے اور ملک میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔طاسی دوران ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے اطلاع دی کہ جنوبی بندرگاہی شہروں بندر عباس اور بندر لنگہ میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ ایران نے اب تک تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ کو وسیع علاقائی یا بین الاقوامی بحران میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کی ہے، لیکن امریکہ نے صورت حال کا غلط اندازہ لگاتے ہوئے کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔

آئی آر جی سی نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اردن کے الازرق میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے دوران ایف-15، ایف-16 اور ایف-35 لڑاکا طیاروں کے شیلٹرز اور متعدد MQ-9 ڈرون تباہ کیے گئے۔قابل ذکر بات یہ ہےکہ  ایران کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے،

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے دوران ایران کے کئی اہم اور اسٹریٹجک مقامات پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے پیش نظر بحرین میں بھی احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ عالمی توانائی کی سپلائی کو لے کر خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ ان شرائط کی تکمیل تک کسی بھی بحری جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ آبی راستہ دنیا میں تیل کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے اس کی بندش نے عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔