Bharat Express DD Free Dish

Iran US War: امریکہ اور سعودی عرب نے عراق میں فضائی حملے ،ایران کے حمایت یافتہ PMF کے 8 جنگجو ہلاک، ایران نے جوابی کارروائی میں بیلسٹک میزائل داغے،

ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں کو روک لیا ہے۔ اگر اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس اسی بحری راستے سے گزرتی ہے۔دوسری طرف یمن کے حوثی باغیوں نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بحیرۂ احمر میں ایک سعودی آئل ٹینکر پر بیلسٹک میزائل داغا ہے۔

نئی دہلی : مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ امریکہ اور سعودی عرب نے عراق میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے ٹھکانوں پر مشترکہ فضائی حملے کیے ہیں، جس کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے متعدد بیلسٹک میزائل داغ دیے۔ تازہ جھڑپوں نے پورے خطے میں سکیورٹی خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے، جب کہ عالمی توانائی کی منڈی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔امریکی فوج کے مطابق عراق میں جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا، وہاں سے امریکی فوجیوں اور سعودی عرب کے اہم توانائی مراکز پر حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اپنے فوجیوں اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے کی گئی۔

دوسری جانب عراق کی پاپولر موبلائزیشن فورس (PMF)، جسے ایران کی حمایت حاصل ہے، نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی حملوں میں اس کے آٹھ جنگجو ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ تنظیم نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں عراق کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔فضائی حملوں کے چند گھنٹوں بعد ایران نے جوابی اقدام کے طور پر کئی بیلسٹک میزائل داغے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق یہ میزائل اردن میں موجود امریکی فوجی اڈے کی جانب فائر کیے گئے تھے، تاہم تمام میزائل راستے میں ہی دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کر دیے گئے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ادھر سعودی عرب نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس کے مشرقی صوبے میں واقع تیل کی تنصیبات کی جانب بڑھنے والے متعدد ڈرونز کو فضائی دفاعی نظام نے مار گرایا۔ سعودی حکام کے مطابق تیل کی تنصیبات محفوظ ہیں اور کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں کو روک لیا ہے۔ اگر اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس اسی بحری راستے سے گزرتی ہے۔دوسری طرف یمن کے حوثی باغیوں نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بحیرۂ احمر میں ایک سعودی آئل ٹینکر پر بیلسٹک میزائل داغا ہے۔ اگرچہ اس حملے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم اس دعوے نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

اس تمام صورتحال کے درمیان ایک اہم سفارتی پیش رفت بھی سامنے آئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ایک نئے معاہدے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق بحران کے حل کے لیے پیش رفت ہوئی ہے اور ایک عارضی انتظام پر غور کیا جا رہا ہے، جس کے تحت عمان اور ایران کے درمیان واقع سمندری راستے کو متبادل گزرگاہ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اسی اہم بحری گزرگاہ پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ خلیجی ممالک اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read