Bharat Express DD Free Dish

Iran US Crisis

امریکی فوج ہائی انرجی لیزر ٹیکنالوجی کو حقیقی آپریشنز میں استعمال کر رہی ہے، ڈرونز کے خلاف ایک لیزر حملے کی لاگت روایتی انٹرسیپٹر میزائلوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہوسکتی ہے

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی شہری نے بتایا کہ ایئرپورٹ کی سمت کالا دھواں اور آگ نظر آئی۔ اسی دوران فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ ’فلا ئٹ ریڈار 24‘ کے اعداد و شمار میں بھی متعدد پروازوں کی آمد اور روانگی میں تاخیر دکھائی گئی۔ویب سائٹ پر 3.5 سے 5 کے درمیان ڈیلے انڈیکس کا مطلب طویل تاخیر اور متعدد پروازوں کی منسوخی سمیت بڑی رکاوٹوں سے ہے۔

رپورٹس کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ ایران قطر کے رابطے میں ہے اور ٹرمپ کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔ رضائی کے مطابق ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے لیے 7 شرائط رکھی ہیں۔ان شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ ختم کرنا، روکے گئے ایرانی فنڈز جاری کرنا اور سمندری ناکہ بندی ختم کرنا شامل ہے۔

پیزشکیان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک پوسٹ شیئر کی۔ انہوں نے لکھا، ’’اگر امریکی جنگجو ہیں تو انہیں ہماری بہادر فوج کا سامنا کرنے دیں۔ عام شہریوں کے بنیادی ڈھانچے، کھانے پینے کی اشیا اور روزگار کے ذرائع پر حملہ کیوں کیا جا رہا ہے؟

وال اسٹریٹ جرنل نے بدھ کو امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دیگر اعلیٰ حکام نے ٹرمپ کے ساتھ جنگ کے طویل عرصے تک جاری رہنے کے امکان پر بات چیت کی ہے۔رپورٹ کے مطابق، ایران امریکی دباؤ، ناکہ بندی اور دیگر فوجی اقدامات کے باوجود پیچھے ہٹنے سے انکار کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ تنازع جنوری 2029 میں ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے اختتام تک بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔

امریکہ کی جانب سے اب تک اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ سرکاری حمایت یافتہ ’پریس ٹی وی‘ کی رپورٹ کے مطابق IRGC نے کہا ہے کہ وہ آئندہ چند گھنٹوں کے دوران قبضے میں لیے گئے امریکی آلے کی تصاویر اور تفصیلی ویڈیو فوٹیج جاری کرے گا۔ایرانی میڈیا کے مطابق یہ بغیر پائلٹ زیر آب گاڑی (UUV) پانی کے اندر جاسوسی اور نگرانی، سمندر کی سطح کی نقشہ سازی، سمندری بارودی سرنگوں کا پتہ لگانے اور آبدوزوں کی کیبلز و پائپ لائنز کی جانچ جیسے اہم کاموں کے لیے تیار کی گئی تھی۔

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ہفتہ کی رات ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے الگ الگ بات کی۔ اس دوران دوطرفہ امور اور خطے میں تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکی وزیر خزانہ نے ان لوگوں کو بھی خبردار کیا جو تہران کے مطالبات کو مسترد کرنے کے ممکنہ خطرات سے خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو واشنگٹن کی طاقت کو کم کرکے نہیں دیکھنا چاہیے۔ بیسنٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایسی شرائط عائد کردی ہیں جن کے تحت ہر ایجنسی، ہر اتھارٹی اور ہر ممکنہ اقدام کا استعمال کیا جاسکتا ہے، جن کے بارے میں بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ امریکا کبھی ان کا استعمال نہیں کرے گا۔

ایران کے قونصل جنرل سعید رضا موسوی موتلاغ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ایران کو فوجی ذرائع سے نقصان پہنچانے میں ناکام رہا، اس لیے اب معاشی دباؤ کا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے امریکی اقدامات کو ’معاشی دہشت گردی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام اس طرح کے دباؤ کے لیے پہلے ہی تیار ہیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اس وقت طاقت اور عزت کی پوزیشن میں ہے اور پوری دنیا ایران کی فتح کو تسلیم کر رہی ہے۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر یہ بات بھی سامنے آ رہی ہے کہ امریکا نے تمام اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے اسکولوں، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔پزشکیان نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں پر دنیا بھر میں امریکا کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے