Iran Reveals Target List: ایران کا بڑا انتباہ، امریکہ یا اسرائیل نے حملہ کیا تو مچ جائے گی تباہی، ممکنہ اہداف کی فہرست بھی جاری
ایران نے سخت انتباہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے اس پر حملہ کیا تو اس کا جواب نہایت شدید ہوگا، جس کے اثرات پوری دنیا محسوس کرے گی۔ ایران نے اپنے ممکنہ حملوں کے لیے چھ مقامات کی ایک مبینہ فہرست بھی جاری کی ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کے جوابی حملوں کی لپیٹ میں بحرین، سعودی عرب اور کویت سمیت خطے کے کئی اہم مقامات آ سکتے ہیں۔
Iran US War: امریکہ اور سعودی عرب نے عراق میں فضائی حملے ،ایران کے حمایت یافتہ PMF کے 8 جنگجو ہلاک، ایران نے جوابی کارروائی میں بیلسٹک میزائل داغے،
ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں کو روک لیا ہے۔ اگر اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس اسی بحری راستے سے گزرتی ہے۔دوسری طرف یمن کے حوثی باغیوں نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بحیرۂ احمر میں ایک سعودی آئل ٹینکر پر بیلسٹک میزائل داغا ہے۔
US Halts Strikes on Iran: امریکہ نے ایران پر فضائی حملے عارضی طور پر روکے، نائب صدر جے ڈی وینس اور جنرل ڈین کین نے کشیدگی بڑھنے پر کیا تشویش کا ظاہر
رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس اہم میٹنگ میں اسلحے کے ذخائر، علاقائی سلامتی، ایران کے ممکنہ ردعمل اور سفارتی امکانات سمیت کئی اہم نکات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملے روکنے کا فیصلہ صرف اسلحے کے ذخائر سے متعلق خدشات کی بنیاد پر کیا گیا یا کشیدگی میں اضافے کے خطرات اور دیگر عوامل بھی اس فیصلے کا سبب بنے۔
Araghchi Warns Over Rubio’s Statement: روبیو کے بیان پر ایرانی وزیر خارجہ عراقچی کی سخت وارننگ، امریکی جارحیت ٹرمپ کی مشکلات میں کرے گی اضافہ
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کے مسلسل فوجی حملے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ مفاہمتی کوششوں کی قیمت مزید بڑھا دیں گے۔ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حالیہ بیانات کو زمینی حقائق سے متصادم قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
Iran US War: ایران کے حملوں سے کویت میں خوف کی لہر، شہریوں نے کھانے پینے کا سامان ذخیرہ کرنا شروع کر دیا
اردن کی فوج نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کے 10 میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے اور ملک میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔طاسی دوران ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے اطلاع دی کہ جنوبی بندرگاہی شہروں بندر عباس اور بندر لنگہ میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
Violation of Peace Agreement: امن معاہدے کی خلاف ورزی ٹرمپ کے دستخطوں کو بے معنی ثابت کرتی ہے: مجتبیٰ خامنہ ای
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور حملوں کے دوران ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حال ہی میں طے پانے والے امن معاہدے کی امریکہ کی جانب سے خلاف ورزی ایک بار پھر ثابت کرتی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کی کوئی حیثیت نہیں اور وہ بے معنی ہیں۔
Iran US War: ایران کی سخت وارننگ، حملے نہ رکے تو امریکہ کو ایران کی جارحانہ طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا: محسن رضائی
خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ ایران نے اب تک تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ کو وسیع علاقائی یا بین الاقوامی بحران میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کی ہے، لیکن امریکہ نے صورت حال کا غلط اندازہ لگاتے ہوئے کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔
Iran US War: ایران نے شام، کویت اور عمان میں امریکی فوجی تنصیبات کو بنایا نشانہ
آئی آر جی سی نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اردن کے الازرق میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے دوران ایف-15، ایف-16 اور ایف-35 لڑاکا طیاروں کے شیلٹرز اور متعدد MQ-9 ڈرون تباہ کیے گئے۔قابل ذکر بات یہ ہےکہ ایران کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے،
Iran-US War Update: امریکا-ایران کشیدگی میں شدت، ایران کے اہم تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات، بحرین میں بھی ہائی الرٹ
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے دوران ایران کے کئی اہم اور اسٹریٹجک مقامات پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے پیش نظر بحرین میں بھی احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ عالمی توانائی کی سپلائی کو لے کر خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
Iran Attack US base in Bahrain: ایران نے بحرین میں امریکی اڈوں پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ کیا، مزید کارروائی کی دھمکی
ایران کا کہنا ہے کہ ان شرائط کی تکمیل تک کسی بھی بحری جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ آبی راستہ دنیا میں تیل کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے اس کی بندش نے عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔





