Bharat Express DD Free Dish

Iran US Crisis

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران نے کبھی بھی اپنی دفاعی تیاریوں میں کمی نہیں کی اور اگر امریکہ کسی بھی معاہدے سے پیچھے ہٹتا ہے تو ایران پوری طاقت کے ساتھ اپنا دفاع کرے گا، ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا اور ایرانی عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے گا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ 80 سے زائد فوجی ٹھکانوں پر حملوں، آبنائے ہرمز میں بڑھتے خطرات اور تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور برینٹ کروڈ کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ اگر یہ تیزی برقرار رہی تو بھارت میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جبکہ درآمدی بل اور تجارتی خسارے میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران فوجی کارروائیوں اور اقتصادی پابندیوں نے مغربی ایشیا میں غیر یقینی صورتحال کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ان پیش رفتوں کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں اور توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔

سال 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عسکری کارروائیوں کی مکمل ٹائم لائن سامنے آ گئی ہے۔ اس میں فروری میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے دعووں اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے لے کر جون میں کارگو بحری جہاز پر حملے اور 30 جون، منگل کو ہونے والے اہم اعلیٰ سطحی اجلاس تک کے تمام اہم واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں اس پورے تنازع کی اندرونی کہانی اور مختلف مراحل کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکہ کو اپنے بیانات انتہائی احتیاط سے دینے چاہئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی مسلح افواج ہر قسم کی صورتحال کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ 14 جون کو ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے نے ان تمام مقاصد کو پورا کیا جنہیں امریکہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی کا خاتمہ، عالمی تجارت کے لیے اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری عزائم کو محدود کرنا اس معاہدے کے بنیادی نکات ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری تنازع کا ذکر معاہدے کے حتمی مسودے میں شامل نہیں کیا گیا۔ اگرچہ ایران اسے ایک اہم مسئلہ قرار دیتا رہا ہے، تاہم امریکہ اور اسرائیل کا مؤقف ہے کہ لبنان کی صورتحال ایران کے ساتھ جاری مذاکرات سے الگ معاملہ ہے

شہباز شریف نے مزید بتایا کہ اس معاہدے پر باضابطہ دستخط 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہونے والی ایک خصوصی تقریب کے دوران کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا اور اس کے مثبت اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی گزشتہ روز اس امید کا اظہار کیا تھا کہ معاہدہ "آنے والے چند دنوں" میں طے پا سکتا ہے۔ اسی طرح امریکی حکام کا کہنا ہے کہ معاہدے کے امکانات 80 سے 85 فیصد تک پہنچ چکے ہیں، اگرچہ بعض حساس نکات پر ابھی بھی بات چیت جاری ہے۔