Bharat Express DD Free Dish

Iran US Crisis

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کو خط لکھ کر ایران کے ساتھ فوجی دشمنی کے خاتمے کا اعلان کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ’وار پاورز ریزولوشن‘ کی مدت کی حد اور سیاسی دباؤ اس فیصلے کی بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں…

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملے شروع ہونے کے بعد ایران نے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں، جس کے باعث بین الاقوامی پروازیں معطل ہو گئی تھیں۔ تاہم اب پہلی بار حملوں کے آغاز کے بعد تہران سے بین الاقوامی پروازوں کا دوبارہ آغاز کیا گیا ہے۔ امام خمینی …

ایران اور امریکہ ایک بار پھر بات چیت کے لیے تیار نظر آ رہے ہیں، تاہم اس بار وہ براہِ راست نہیں بلکہ فاصلے برقرار رکھتے ہوئے اور دوسرے درجے کے نمائندوں کے ذریعے مذاکرات کر سکتے ہیں۔ ایران کا ایک وفد پاکستان پہنچ چکا ہے، جبکہ امریکی وفد کے ہفتہ کو وہاں پہنچنے کی توقع ہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان سے وابستہ افراد نے بتایا کہ جے ڈی وینس اور محمد باقر قالیباف بدھ کی صبح اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں۔ دونوں لیڈر اپنی اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے اور ممکنہ سیزفائر و مستقبل کی ڈیل پر بات چیت کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید بتایا کہ ایرانی عملے نے انتباہ نظر انداز کیا، جس کے بعد امریکی بحری جہاز نے انجن روم کو نشانہ بنا کر جہاز کو روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت امریکی میرینز نے جہاز کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے اور اس کی مکمل تلاشی لی جا رہی ہے

امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں ایک بار پھر جنگ جیسے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ امریکی بحریہ نے ایک ایرانی مال بردار جہاز پر حملہ کر کے اسے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ اس کی تصدیق خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ”نیوکلیئر ڈسٹ“ یعنی افزودہ یورینیم فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ یہ مواد ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی رہی ہے۔ ٹرمپ نے اس پیش رفت کو سفارتی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ اس سے خطے میں امن کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔

ڈیموکریٹ اراکین نے وزیر دفاع پر پانچ بڑے الزامات عائد کیے ہیں۔ رکن کانگریس یاسمین انصاری کی جانب سے پیش کیے گئے سات صفحات پر مشتمل مواخذہ مسودے پر آٹھ دیگر ارکان نے بھی دستخط کیے ہیں۔ ان الزامات میں سب سے اہم یہ ہے کہ وزیر دفاع نے کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف جنگی کارروائی شروع کی۔

دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل آف ایران نے بھی اپنے بیان میں واضح کیا کہ سیزفائر کو جنگ کے خاتمے سے تعبیر نہ کیا جائے۔ کونسل نے کہا کہ ایرانی افواج مکمل چوکس ہیں اور دشمن کی کسی بھی غلطی پر پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا۔

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی اس پیش رفت میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے،