Bharat Express DD Free Dish

Iran US Crisis

ہاؤس کمیٹی کے چیئرمین بریٹ گوتھری نے کہا کہ ایسے خطرات دنیا کے مختلف تنازعہ زدہ علاقوں میں پہلے ہی سامنے آ چکے ہیں۔انہوں نے کہا، "ہمارے مخالف ممالک جنگی علاقوں میں جی پی ایس سگنلز کو جام اور اسپوف کر رہے ہیں، جس سے فوجی کارروائیوں میں خطرات بڑھ رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ قرارداد 215 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور کی گئی۔ حیران کن طور پر اس بار کچھ ریپبلکن ارکان نے بھی اپنی ہی جماعت کے مؤقف سے ہٹ کر ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر اس بل کی حمایت کی۔کم از کم چار ریپبلکن ارکان نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا،

واقعے کے بعد کویت میں بھارتی سفارت خانے نے وہاں مقیم بھارتی شہریوں کے لیے ایڈوائزری بھی جاری کی ہے۔ سفارت خانے نے تمام بھارتیوں کو چوکس رہنے، مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اجلاس کے اختتام کے بعد بھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ صدر ٹرمپ نے حتمی فیصلہ کیوں مؤخر کیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم نکات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں، جس کے باعث مذاکرات فیصلہ کن مرحلے تک نہیں پہنچ سکے۔

ایران نے امریکہ کی جانب سے پیش کیے گئے 14 نکاتی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے ایک نیا مسودہ تجویز واشنگٹن کو بھیج دیا ہے۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے نئے ڈرافٹ کو مکمل طور پر رد کر دیا۔ اس کے بعد بھارت میں ایرانی سفارت خانے نے امریکی صدر کے بیان پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔

آرمینیا میں ایرانی سفارت خانے نے بھی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے لکھا، “آپ کو مبارکباد۔ بچے معصوم اور پیارے ہوتے ہیں۔ میناب اسکول میں جن 168 بچوں کو آپ کے حکمرانوں نے مارا اور آپ نے اس کی حمایت کی، وہ بھی بچے ہی تھے۔

عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باعث سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ جمعہ کے روز ان کی قیمتوں میں 0.81 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کا ممکنہ دورہ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور ان کے ایرانی ہم منصب سید عباس عراقچی کے درمیان اعلیٰ سطحی ٹیلیفونک گفتگو کے بعد سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تہران موجودہ علاقائی بحران کے دوران برکس کو سفارتی مذاکرات اور عالمی سطح پر حمایت حاصل کرنے کے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر دیکھ رہا ہے

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کو تیار ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کے حقوق اور مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے خاص طور پر جنوبی کوریا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ بھی اس مشن میں شامل ہو۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، “ایران نے جنوبی کوریائی جہاز کو بھی نشانہ بنایا ہے، شاید اب جنوبی کوریا کو اس آپریشن میں حصہ لینا چاہیے۔”