نئی دہلی: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق ایک بار پھر متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک اہم معاہدہ جلد طے پانے والا ہے اور یہ ایک یا دو دن میں بھی حتمی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ ایران نے اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کسی نئے معاہدے پر کوئی حتمی بات نہیں ہوئی۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے اب تک کسی معاہدے کے حوالے سے کوئی آخری فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری سے متعلق ’’سرخ لائن‘‘ پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا اور معاہدے سے متعلق گردش کرنے والی اطلاعات محض قیاس آرائیاں ہیں۔
امریکی مؤقف میں تبدیلی سے مذاکرات متاثر ہوئے
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران نے ابتدا ہی سے مذاکرات کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح رکھا تھا اور متعدد نکات پر پیش رفت بھی ہوئی تھی، لیکن امریکی فریق کی جانب سے بار بار مؤقف تبدیل کیے جانے کے باعث بات چیت آگے نہیں بڑھ سکی۔ ان کے مطابق اسی رویے نے سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچایا اور مذاکراتی عمل کو تعطل کا شکار کر دیا۔ایرانی ترجمان نے مزید بتایا کہ قطر اور پاکستان دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی سکیورٹی صورتحال کے لیے خطے میں امریکی فوجی سرگرمیاں بڑی حد تک ذمہ دار ہیں۔
ٹرمپ نے جلد معاہدے کا کیا تھا دعویٰ
اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے پر تقریباً اتفاق ہو چکا ہے اور آئندہ چند دنوں میں اس پر دستخط کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یورپ میں اس ہفتے کے اختتام پر دستخطی تقریب بھی منعقد ہو سکتی ہے، جس میں امریکہ کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مجوزہ معاہدے کے بعد ایران کے لیے جوہری ہتھیار تیار کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ معاہدہ نافذ ہونے کے بعد عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔
ہرمز کی صورتحال پر اختلاف
ایران نے ٹرمپ کے اس دعوے سے بھی اختلاف کیا ہے۔ اسماعیل بقائی کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں سکیورٹی خطرات کی بنیادی وجہ امریکی فوجی سرگرمیاں ہیں، جنہوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
بھارتی جہازوں پر حملوں کا معاملہ
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حالیہ دنوں میں بھارتی تجارتی جہازوں پر ہونے والے امریکی حملے، جن میں کم از کم تین بھارتی شہری ہلاک ہوئے، امریکہ کی جارحانہ پالیسیوں اور بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کی مثال ہیں۔ بقائی نے ہلاک ہونے والے بھارتی ملاحوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس دکھ کی گھڑی میں بھارتی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ سمندری سلامتی، عالمی امن اور آزاد بحری نقل و حرکت کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات پر امریکہ سے جواب طلب کیا جائے۔ایران اور امریکہ کے متضاد بیانات نے ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیا ہے کہ آیا دونوں ممالک واقعی کسی بڑے معاہدے کے قریب ہیں یا پھر یہ سفارتی کشمکش ابھی مزید طول پکڑ سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

