Bharat Express DD Free Dish

Iran US Crisis

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور حملوں کے دوران ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حال ہی میں طے پانے والے امن معاہدے کی امریکہ کی جانب سے خلاف ورزی ایک بار پھر ثابت کرتی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کی کوئی حیثیت نہیں اور وہ بے معنی ہیں۔

خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ ایران نے اب تک تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ کو وسیع علاقائی یا بین الاقوامی بحران میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کی ہے، لیکن امریکہ نے صورت حال کا غلط اندازہ لگاتے ہوئے کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔

آئی آر جی سی نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اردن کے الازرق میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے دوران ایف-15، ایف-16 اور ایف-35 لڑاکا طیاروں کے شیلٹرز اور متعدد MQ-9 ڈرون تباہ کیے گئے۔قابل ذکر بات یہ ہےکہ  ایران کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے،

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے دوران ایران کے کئی اہم اور اسٹریٹجک مقامات پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے پیش نظر بحرین میں بھی احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ عالمی توانائی کی سپلائی کو لے کر خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ ان شرائط کی تکمیل تک کسی بھی بحری جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ آبی راستہ دنیا میں تیل کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے اس کی بندش نے عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔

امریکہ اور ایران نے حالیہ دنوں میں ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ اقدامات میں اضافہ کیا ہے۔ امریکہ نے ایران کے کئی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے اور انہیں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے پورے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام اور خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں سکیورٹی خدشات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔ امریکہ نے سمندری ناکہ بندی اور نئے اقتصادی پابندیوں کے ذریعے ایران پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے متضاد دعوؤں کے باعث خطے کی صورتحال بدستور انتہائی کشیدہ بنی ہوئی ہے۔

وزارت دفاع نے مزید کہا کہ ملک کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں اور افواہوں یا غیر مصدقہ خبروں کو پھیلانے سے گریز کریں۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے بھی الگ بیان میں اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے خطے کے امن کے لیے خطرناک قرار دیا۔

ڈونلڈ ٹرمپانہوں نے امریکہ کو "آبنائے ہرمز کا محافظ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اہم بحری راستہ امریکی نگرانی میں دنیا کے تمام ممالک کے لیے کھلا رہے گا، قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایران سے تعلق رکھنے والے جہازوں اور ایرانی یوزر کو اس راستے کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔

ایران نے سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کو آئندہ اطلاع تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ایران نے واضح کیا ہے کہ جب تک خطے میں امریکہ کی فوجی موجودگی اور مداخلت جاری رہے گی، اس اہم بحری گزرگاہ کو دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔ تہران نے یہ انتباہ بھی دیا ہے کہ اگر اس کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں...