Bharat Express DD Free Dish

Iran US Crisis

فروری کو مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد ایران کے حملوں کا سب سے زیادہ اثر یو اے ای پر پڑنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ بتایا گیا کہ ایران نے یو اے ای کی سمت تقریباً 3 ہزار میزائل اور ڈرون بھیجے تھے، جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ تعداد تھی۔اس کے بعد جون میں ایران اور یو اے ای کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت  (ایم او یو) نافذ ہوئی تھی۔

سروے کے نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع اور بڑھتی ہوئی پٹرول کی قیمتیں ٹرمپ انتظامیہ کے لیے بڑی سیاسی پریشانی کا باعث بن رہی ہیں۔ 80 فیصد امریکی شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایران میں امریکی فوجی مداخلت طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے،

میم کے کیپشن میں طنزیہ انداز میں کہا گیا کہ جلد ہی انہیں کچرے کے ڈبے میں چھپایا جائے گا۔ایران کی جانب سے ایک اور پوسٹ میں ٹرمپ پر مزید طنز کیا گیا۔ اس میں دعویٰ کیا گیا کہ جو شخص مبینہ طور پر بنکر میں چھپنے کی باتوں کا سامنا کر رہا تھا، وہ بالآخر اپنے دفتر میں مارا گیا، جبکہ بڑے جنگی بحری جہازوں اور جدید B-2 بمبار طیاروں پر فخر کرنے والے امریکی صدر کو آخرکار ایک فوڈ ٹرک کے ذریعے فرار ہونا پڑا،

امریکی رکنِ پارلیمنٹ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی اور جنگ کے حوالے سے ٹرمپ کے فیصلوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر امریکہ کو ایران کے ساتھ جنگ میں جانے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس کے پیچھے اصل حکمت عملی کیا ہے؟

مرفی نے کہا کہ ٹرمپ کے جنگ بندی سے متعلق اعلانات اچانک نہیں ہوتے بلکہ مبینہ طور پر پیسہ کمانے کی ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق تقریباً ایک ہفتہ قبل ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ اگر کوئی شخص انہیں ماہانہ ایک لاکھ ڈالر ادا کرے تو اسے امریکی خارجہ پالیسی سے متعلق فیصلوں کی پہلے سے معلومات فراہم کی جائیں گی۔

وزیر اعظم مودی کی اس پوسٹ کو اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ری پوسٹ کیا۔ انہوں نے مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ ’’میرے دوست ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی، آپ کا شکریہ۔‘‘ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ دونوں ممالک مل کر اسرائیل اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرتے رہیں گے۔

حکومت نے باب المندب، جنوبی بحیرہ احمر اور اس سے متصل یمن کے پانیوں میں کام کرنے والے جہازوں کے لیے بھی ایڈوائزری جاری کی ہے۔ اس میں جہاز مالکان اور کپتانوں کو انتہائی محتاط رہنے، سکیورٹی سے متعلق صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے اور خطرات کو کم کرنے کے لیے اضافی اقدامات نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایرانی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر لکھا کہ ایرانی قیادت دوہرا رویہ اختیار کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملاقات کی درخواست کرنے کے باوجود ایران عوامی سطح پر مذاکرات سے انکار کر رہا ہے۔اسماعیل بقائی نے مزید بتایا کہ ایران اس معاملے پر سلطنتِ عمان کے ساتھ مشاورت کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ نے ایران پر مجوزہ فوجی حملہ مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے کیونکہ تہران اور مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک نے اس کارروائی کو روکنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ معاہدے کا ابتدائی خاکہ تیار کر لیا گیا ہے۔ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ مکمل طور پر کارروائی کے لیے تیار تھا،

سفارت خانوں نے امریکی شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اضافی احتیاط اختیار کریں اور ممکنہ سفری رکاوٹوں کے لیے تیار رہیں۔ انتباہ میں کہا گیا ہے کہ پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی عارضی بندش اور سفری نظام میں اچانک خلل پیدا ہونے کا امکان موجود ہے، اس لیے شہری اپنی سفری منصوبہ بندی احتیاط سے کریں۔