نئی دہلی : ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک میں تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ایران کے حالیہ حملوں اور اس کے بعد امریکی فضائی کارروائیوں نے کویت سمیت خطے کے کئی ممالک میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے۔ صورتحال کے پیش نظر کویت میں بڑی تعداد میں لوگوں نے ممکنہ ہنگامی حالات کے خدشے کے تحت کھانے پینے کی اشیا اور روزمرہ استعمال کی ضروریات کا سامان ذخیرہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ادھر اردن میں ایرانی حملے کے دوران دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امریکہ نے ایران کے خلاف مسلسل آٹھویں روز بھی فوجی کارروائی جاری رکھی۔ امریکی وقت کے مطابق اتوار کی صبح امریکی فوج نے صدر کی ہدایت پر ایران میں نئے فضائی حملے کیے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس عسکری صلاحیت کو کمزور کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔ امریکہ نے واضح کیا کہ یہ حملے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کی ان کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے ہیں جن میں اردن میں تعینات امریکی فوجیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق جمعہ کو اردن میں ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں میں دو امریکی فوجی ہلاک جبکہ ایک لاپتا ہو گیا۔ چار زخمی فوجیوں کو علاج کے بعد اسپتال سے فارغ کر دیا گیا، جبکہ دیگر زخمی اہلکار علاج مکمل ہونے کے بعد دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ گئے۔ ان ہلاکتوں کے بعد موجودہ جنگ میں مارے جانے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 16 ہو گئی ہے، جبکہ 430 سے زائد اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن کے علاقے الازرق میں واقع امریکی فوجی اڈے پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق اس کارروائی میں کم از کم دو امریکی لڑاکا طیارے اور تین دیگر طیارے تباہ کیے گئے۔ اردن کی فوج نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کے 10 میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے اور ملک میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔طاسی دوران ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے اطلاع دی کہ جنوبی بندرگاہی شہروں بندر عباس اور بندر لنگہ میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ صوبہ ہرمزگان کے حکام نے دھماکوں کی تصدیق تو کی، تاہم کہا کہ انہیں کسی امریکی فضائی حملے یا میزائل کارروائی کی اطلاع نہیں ملی۔ سرکاری مہر نیوز ایجنسی نے بھی حکام کے حوالے سے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی حملوں کی خبروں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور بندر لنگہ میں کسی حملے یا تصادم کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
بھارت ایکسپریس ردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

