Urdu Conclave 2026

Iran US Conflicit

ایک ماہ کی خاموشی کے بعد مشرق وسطیٰ میں جنگ کا بارود ایک بار پھر زوردار دھماکوں کے ساتھ پھٹ پڑا ہے! امریکہ اور ایران کے درمیان جاری براہِ راست فوجی جنگ نے اب انتہائی سنگین رخ اختیار کر لیا ہے۔ ایران میں IRGC کے ٹھکانوں پر امریکہ کی جانب سے مسلسل دوسرے روز کیے گئے فضائی حملوں کے جواب میں تہران نے پورے خلیجی خطے میں محاذ کھول دیا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ نے ان لوگوں کو بھی خبردار کیا جو تہران کے مطالبات کو مسترد کرنے کے ممکنہ خطرات سے خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو واشنگٹن کی طاقت کو کم کرکے نہیں دیکھنا چاہیے۔ بیسنٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایسی شرائط عائد کردی ہیں جن کے تحت ہر ایجنسی، ہر اتھارٹی اور ہر ممکنہ اقدام کا استعمال کیا جاسکتا ہے، جن کے بارے میں بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ امریکا کبھی ان کا استعمال نہیں کرے گا۔

آبنائے ہرمز کے سلسلے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز پر ’’مکمل کنٹرول‘‘ رکھتا ہے اور اسے برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ دوسری جانب ایران نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بدستور بند ہے اور اسے اس وقت تک نہیں کھولا جائے گا جب تک ایران کی شرائط تسلیم نہیں کی جاتیں۔

امریکی رکنِ پارلیمنٹ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی اور جنگ کے حوالے سے ٹرمپ کے فیصلوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر امریکہ کو ایران کے ساتھ جنگ میں جانے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس کے پیچھے اصل حکمت عملی کیا ہے؟

مرفی نے کہا کہ ٹرمپ کے جنگ بندی سے متعلق اعلانات اچانک نہیں ہوتے بلکہ مبینہ طور پر پیسہ کمانے کی ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق تقریباً ایک ہفتہ قبل ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ اگر کوئی شخص انہیں ماہانہ ایک لاکھ ڈالر ادا کرے تو اسے امریکی خارجہ پالیسی سے متعلق فیصلوں کی پہلے سے معلومات فراہم کی جائیں گی۔

ایران آبنائے ہرمز سے امریکی اور اسرائیلی بحری جہازوں کے داخلے پر پابندی عائد کرنے کے لیے نیا قانون لانے کی تیاری کر رہا ہے۔ مجوزہ بل، جرمانوں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ردِعمل اور اس کے عالمی اثرات کے بارے میں جانیے مکمل تفصیل۔

رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس اہم میٹنگ میں اسلحے کے ذخائر، علاقائی سلامتی، ایران کے ممکنہ ردعمل اور سفارتی امکانات سمیت کئی اہم نکات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملے روکنے کا فیصلہ صرف اسلحے کے ذخائر سے متعلق خدشات کی بنیاد پر کیا گیا یا کشیدگی میں اضافے کے خطرات اور دیگر عوامل بھی اس فیصلے کا سبب بنے۔

اردن کی فوج نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کے 10 میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے اور ملک میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔طاسی دوران ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے اطلاع دی کہ جنوبی بندرگاہی شہروں بندر عباس اور بندر لنگہ میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور حملوں کے دوران ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حال ہی میں طے پانے والے امن معاہدے کی امریکہ کی جانب سے خلاف ورزی ایک بار پھر ثابت کرتی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کی کوئی حیثیت نہیں اور وہ بے معنی ہیں۔

خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ ایران نے اب تک تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ کو وسیع علاقائی یا بین الاقوامی بحران میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کی ہے، لیکن امریکہ نے صورت حال کا غلط اندازہ لگاتے ہوئے کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔