راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ وہ انڈیا اتحاد کے ان تمام ارکان پارلیمنٹ کے شکر گزار ہیں جو جمہوریت کے تحفظ کے لیے پارلیمنٹ، سڑکوں اور جنتر منتر کے قریب مضبوطی سے ڈٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’وہ ہمارا مارچ روک سکتے ہیں، وہ میٹنگ کرنے سے انکار کر سکتے ہیں، لیکن وہ ہمارے لوگوں کی قوت ارادی کو نہیں روک سکتے۔‘‘ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور پورے نظام کو جوابدہ بنایا جائے گا۔ اس سے قبل حراست میں لیے جانے کے بعد بھی راہل گاندھی نے کہا تھا کہ اپوزیشن کی یہ مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار استعفیٰ نہیں دے دیتے۔
جنپتھ سے جنتر منتر تک اپوزیشن کا مارچ
اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے پہلے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی جانب سے منعقدہ عشائیے میں شرکت کی۔ جنپتھ روڈ پر واقع شنگری لا ہوٹل میں منعقدہ عشائیے میں لیڈروں نے جنوبی ہند کے ویجٹیرئن کھانوں سے لطف اٹھایا اور احتجاج کی آئندہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔ اس کے بعد اپوزیشن رہنما 3 بسوں میں سوار ہو کر جنتر منتر پر احتجاج کے لیے روانہ ہوئے۔ پولیس نے اشوک روڈ پر شنگری لا ہوٹل کے سامنے اپوزیشن ارکان کو روک دیا۔ اس دوران راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور کچھ دیگر اپوزیشن لیڈروں کو حراست میں لے لیا گیا۔ راہل گاندھی اور دیگر لیڈروں کو ایک ٹیمپو ٹریولر میں بٹھا کر وہاں سے لے جایا گیا۔
پرینکا گاندھی سڑک پر لیٹ گئیں
راہل گاندھی کو حراست میں لیے جانے کے بعد کئی کانگریس کارکن ٹریولر کی چھت پر چڑھ گئے اور نعرے بازی کرنے لگے۔ سکیورٹی فورسز کی موجودگی میں کافی دیر تک نعرے لگائے جاتے رہے۔ پولیس کی جانب سے روکے جانے پر پرینکا گاندھی نے احتجاج کیا اور سڑک پر لیٹ گئیں۔ اس وقت ان کے ہاتھ میں آئین کی ایک کاپی تھی۔ اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے لیے جنتر منتر جانا چاہتے تھے۔ کانگریس نے ایکس پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ راہل گاندھی کو جس گاڑی میں لے جایا جا رہا تھا، پارٹی کارکنوں نے اگراسن کی باولی کے قریب اس کا ٹائر پنکچر کر دیا۔ بعد میں راہل گاندھی اور کچھ دیگر لیڈروں کو بارہ کھمبا تھانے لے جایا گیا۔ کانگریس اور اپوزیشن کے بعض لیڈروں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے مظاہرین کے ساتھ بدسلوکی کی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




