Bharat Express DD Free Dish

Congress Protest

کانگریس کا سوال ہے کہ جن لوگوں نے ’شدھی کرن‘ کیا، ان کے خلاف ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی گئی؟ اس معاملے کو لے کر کانگریس نے ریاست سے لے کر قومی دارالحکومت دہلی تک احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ راہل گاندھی کے خلاف درج شکایت واپس لینے کے مطالبے کو لے کر 200 سے زائد کانگریسی کارکنان نے دہرادون میں پولیس ہیڈکوارٹر تک مارچ کیا اور اتراکھنڈ کے پولیس ڈائریکٹر جنرل دیپم سیٹھ کو میمورنڈم بھی پیش کیا۔

کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے الزام لگایا کہ کانگریس رہنماؤں کے خلاف پولیس کارروائی حکومت کے خوف کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے پیر کے روز مظاہرین پر مبینہ لاٹھی چارج کے معاملے پر وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرداخلہ امت شاہ کو بھی نشانہ بنایا۔

اطلاعات کے مطابق احتجاج کے دوران اپوزیشن کے متعدد ارکان پارلیمنٹ اور کارکن وزیراعظم کی رہائش گاہ کے باہر پہنچ گئے تھے۔ کچھ دیر بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے رہنماؤں اور مظاہرین کو وہاں سے ہٹا کر مختلف مقامات پر منتقل کیا اور بھیڑ کو منتشر کر دیا۔ ذرائع کے مطابق پرینکا گاندھی واڈرا کو مندر مارگ تھانے، راہل گاندھی کو چھترسال اسٹیڈیم اور کئی دیگر ارکان پارلیمنٹ کو کنگز وے کیمپ کے علاقے میں لے جایا گیا ہے۔

کانگریس کا احتجاج نیٹ-یو جی 2026 پیپرلیک معاملے اور غیر مسلح طلبہ مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی پر ایک روز قبل پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے بعد کیا گیا۔ پرینکا گاندھی واڈرا نے گرفتاری پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ بزدل ہیں۔ یہ خوف زدہ ہیں۔ ہم ان سے خوف زدہ نہیں ہیں۔ یہ ہم سے خوف زدہ ہیں۔‘‘

کانگریس رہنماؤں نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن نے نیٹ-یو جی پیپر لیک معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ کانگریس کے لیڈروں کا وزیراعظم کی رہائش گاہ کی جانب پیدل مارچ۔

کانگریس لیڈر راگنی نائک نے الزام لگایا کہ حکومت حدبندی کو ایک ’’ہتھیار‘‘ کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور اس کے ذریعے ملک کی یکجہتی کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم مودی کے خطاب کو کانگریس کے خلاف سازش بھی کہا۔

دہلی کے بھارت منڈپم میں جاری ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ میں کچھ یوتھ کانگریس کارکنوں نے احتجاج کیا، جس میں الزام ہے کہ نرسِمہ یادو نے مظاہرے کے دوران کپڑے اتار کراحتجاجی مظاہرہ کیا۔

اتر پردیش میں منریگا مسئلے پر  انڈین نیشنل کانگریس اسمبلی کے گھیراؤ کے لیے احتجاج کر رہی ہے، جس کے پیش نظر متعدد لیڈروں اور کارکنوں کو نظر بند کیے جانے کی خبر ہے۔ ریاستی کانگریس صدر اجے رائے کی قیادت میں لکھنؤ میں صبح مارچ کی تیاری کی گئی تھی، جس میں اویناش پانڈے، آرادھنا مشرا مونا اور وریندر چودھری سمیت کئی لیڈر شامل ہوئے۔

بی جے پی نے کانگریس کے اس احتجاج کو "سیاسی ڈرامہ" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ بی جے پی کے ترجمان نے کہا کہ ای ڈی ایک آزاد ادارہ ہے اور وہ قانون کے مطابق اپنا کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے احتجاج کا سہارا لے رہی ہے۔

بھوپیش بگھیل نے کہا کہ پیپر لیک ہونا 10 لاکھ، 20 لاکھ اور 30 ​​لاکھ روپے کا معاملہ نہیں ہے، یہ ہزاروں کروڑ کا گھوٹالہ ہے۔