نئی دہلی: لوک کلیان مارگ پر کانگریس کے احتجاج کے بعد دہلی پولیس کی کارروائی میں حراست میں لیے گئے کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور دیگر کئی رہنماؤں کو رہا کر دیا گیا۔ کانگریس رہنما وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ راہل گاندھی، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور کئی اپوزیشن رہنما چھترسال اسٹیڈیم سے روانہ ہوئے، جہاں پولیس نے انہیں حراست میں رکھا تھا۔ کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی مندر مارگ پولیس اسٹیشن بھی پہنچیں، جہاں پرینکا گاندھی کو حراست میں رکھا گیا تھا۔ کانگریس رہنماؤں ملکارجن کھڑگے، راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا، کے سی وینوگوپال اور پون کھیڑا نے لوک کلیان مارگ پر احتجاج کیا۔ کیرالہ کے وزیراعلیٰ وی ڈی ستیسن اور کرناٹک کے وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار بھی احتجاج میں شامل ہوئے۔
راہل گاندھی نے طلبہ کے خلاف مبینہ زیادتی پر جواب مانگا
کانگریس رہنماؤں کا کہنا تھا کہ انہیں پارلیمنٹ میں یہ مسئلہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی گئی، اسی لیے انہوں نے پیر کے روز کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ’’سنسد چلو‘‘ احتجاج کے دوران پولیس کی مبینہ کارروائی کے خلاف وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ کے قریب احتجاج کیا۔ اسی دوران وزیرمملکت جتیندر سنگھ نے راہل گاندھی سے ملاقات کرکے بات چیت کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ راہل گاندھی حکومت کی جانب سے نیٹ-یو جی امتحان پر پارلیمانی بحث کی یقین دہانی کے باوجود اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ گئے اور لوک کلیان مارگ پر احتجاج جاری رکھا۔ جتیندر سنگھ کے مطابق راہل گاندھی نے ابتدا میں پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ کیا تھا، لیکن حکومت کی جانب سے یقین دہانی ملنے کے بعد انہوں نے وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ بھی شامل کر دیا۔
حکومت جمہوریت مخالف رویہ اختیار کر رہی ہے: کانگریس
کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال نے کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں نے پارلیمنٹ میں بحث کے لیے نوٹس دیا تھا، لیکن اس معاملے پر کوئی بحث نہیں کرائی گئی۔ انہوں نے کہا ’’حکومت نے کل اپنی بربریت کا مظاہرہ کیا۔ آج انہوں نے پھر یہی بربریت دہرائی۔ وہ مکمل طور پر جمہوریت مخالف ہیں۔ جتیندر سنگھ نے ہم سے کہا تھا کہ نوٹس دیں، پھر وہ بحث پر غور کریں گے۔ ہم نے کل بھی نوٹس دیا تھا اور آج بھی دیا ہے۔ اب یہ سب بے بنیاد باتیں ہیں۔‘‘ راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ طلبہ کے لیے انصاف کی لڑائی مرکزی حکومت کے دباؤ کے باوجود جاری رہے گی۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے الزام لگایا کہ کانگریس رہنماؤں کے خلاف پولیس کارروائی حکومت کے خوف کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے پیر کے روز مظاہرین پر مبینہ لاٹھی چارج کے معاملے پر وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرداخلہ امت شاہ کو بھی نشانہ بنایا۔ کھڑگے نے کہا کہ حکومت نے پہلے تعلیمی نظام کو تباہ کیا، لاکھوں بچوں کا مستقبل خراب کیا اور 150 سے زیادہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کا الزام عائد ہوا، جبکہ 25 طلبہ کی موت ہوئی۔ جب طلبہ انصاف کے مطالبے کے لیے سڑکوں پر اترے تو ان پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے امت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے ایکس پر لکھا ’’تاناشاہی کا دوسرا نام امت شاہ ہی ہے۔‘‘ کانگریس رہنما پون کھیڑا نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی نے احتجاج کو ’’نامناسب‘‘ قرار دیا
بی جے پی نے کہا کہ کانگریس کا احتجاج نامناسب تھا، کیونکہ اس کے لیے اجازت نہیں لی گئی تھی۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ سمبت پاترا نے کہا کہ وزیراعظم کی رہائش گاہ ایک خاص پروٹوکول رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں احتجاج اور دھرنے کا حق ضرور ہے، لیکن یہ بھی طے ہونا چاہیے کہ احتجاج کہاں اور کس طریقے سے کیا جائے۔ انہوں نے کہا ’’راہل گاندھی اپوزیشن لیڈر ہیں اور انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دہلی میں احتجاج کے لیے مخصوص مقامات موجود ہیں۔ اس کے باوجود وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے دروازے کے بالکل باہر بڑی تعداد میں لوگوں کے ساتھ اچانک اور بغیر اجازت احتجاج کرنا، قانون کو نظر انداز کرنا نامناسب ہے۔ جمہوریت اس طرح کام نہیں کرتی۔‘‘ یہ پورا معاملہ پیر کے روز وسطی دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ’’سنسد چلو‘‘ احتجاج کے بعد پیدا ہوا، جس کے دوران پولیس نے کارروائی کی تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


