Urdu Conclave 2026

Iran US Crisis: ایران کی آبنائے ہرمز  پر سخت وارننگ، کہا-تیل کی ایک بوند بھی نہیں، امریکی وزیر خزانہ کا بڑا دعویٰ

امریکی وزیر خزانہ نے ان لوگوں کو بھی خبردار کیا جو تہران کے مطالبات کو مسترد کرنے کے ممکنہ خطرات سے خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو واشنگٹن کی طاقت کو کم کرکے نہیں دیکھنا چاہیے۔ بیسنٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایسی شرائط عائد کردی ہیں جن کے تحت ہر ایجنسی، ہر اتھارٹی اور ہر ممکنہ اقدام کا استعمال کیا جاسکتا ہے، جن کے بارے میں بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ امریکا کبھی ان کا استعمال نہیں کرے گا۔

نئی دہلی : امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ دونوں ممالک اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور کسی بھی قیمت پر پیچھے ہٹنے کو تیار نظر نہیں آتے۔ اسی دوران امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کے حوالے سے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی فوجی طاقت کو تقریباً ختم کردیا ہے۔ ان کے بیان کے بعد خطے میں جاری کشیدگی اور مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔اسکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ ایران کی تقریباً 100 فیصد فوجی فیکٹریاں تباہ کردی گئی ہیں، جب کہ اس کے جوہری پروگرام کو بھی مکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب دونوں ممالک کے درمیان تنازع ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہورہا ہے۔ بیسنٹ کے مطابق اب ایک ’اکنامک ڈی ڈے‘ شروع ہوگا، جسے کسی دشمن کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی اقتصادی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔

واشنگٹن کو کمزور نہ سمجھیں

امریکی وزیر خزانہ نے ان لوگوں کو بھی خبردار کیا جو تہران کے مطالبات کو مسترد کرنے کے ممکنہ خطرات سے خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو واشنگٹن کی طاقت کو کم کرکے نہیں دیکھنا چاہیے۔ بیسنٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایسی شرائط عائد کردی ہیں جن کے تحت ہر ایجنسی، ہر اتھارٹی اور ہر ممکنہ اقدام کا استعمال کیا جاسکتا ہے، جن کے بارے میں بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ امریکا کبھی ان کا استعمال نہیں کرے گا۔

ایرانی حکومت کو ’ظالم‘ قرار دیا

اسکاٹ بیسنٹ نے ایرانی حکومت کو ’ظالم حکومت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کا مقصد اس حکومت کو سہارا دینے والی ہر اقتصادی لائف لائن کو ختم کرنا ہے، تاکہ تہران کو عالمی سطح پر تنہا کیا جاسکے۔ انہوں نے امریکا کے اتحادیوں اور دیگر ممالک سے بھی واضح طور پر اپنا موقف طے کرنے کو کہا ہے۔بیسنٹ نے کہا کہ اب بین الاقوامی برادری کے لیے فیصلہ کرنے کا وقت آگیا ہے کہ وہ واشنگٹن کی جانب سے ایران پر دباؤ بڑھانے کی مہم کی حمایت کرتی ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ممالک ایران کے ساتھ کھڑے ہوں گے، انہیں امریکا کی پالیسیوں کے ممکنہ اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی خبردار کرچکے ہیں کہ ایران کو کسی بھی قسم کی ’لائف لائن‘ فراہم کرنے والے ممالک کو اقتصادی نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ ادھر آبنائے ہرمز کی صورتحال نے عالمی توانائی منڈیوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔ ہرمز آبنائے کے کھل نہ پانے سے بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک کو تیل کی سپلائی متاثر ہونے اور قلت کے خدشات کا سامنا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، اس لیے اس میں طویل رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی قیمتوں پر بھی گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read