Bharat Express DD Free Dish

Crude Oil

تیل کمپنیاں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو روزانہ اپ ڈیٹ کرتی ہیں۔ ایسے میں پٹرول اور ڈیزل کے تازہ نرخ انڈین آئل کی سرکاری ویب سائٹ پر جا کر یا ایس ایم ایس کے ذریعے بھی معلوم کیے جا سکتے ہیں۔

امریکی وزیر خزانہ نے ان لوگوں کو بھی خبردار کیا جو تہران کے مطالبات کو مسترد کرنے کے ممکنہ خطرات سے خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو واشنگٹن کی طاقت کو کم کرکے نہیں دیکھنا چاہیے۔ بیسنٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایسی شرائط عائد کردی ہیں جن کے تحت ہر ایجنسی، ہر اتھارٹی اور ہر ممکنہ اقدام کا استعمال کیا جاسکتا ہے، جن کے بارے میں بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ امریکا کبھی ان کا استعمال نہیں کرے گا۔

اس مجوزہ قانون کا سب سے زیادہ اثر ان ممالک پر پڑنے کا خدشہ ہے جو روس سے بڑی مقدار میں توانائی درآمد کرتے ہیں۔ ان میں بھارت اور چین کے علاوہ جاپان اور یورپ کے بعض ممالک بھی شامل ہیں۔ قانون نافذ ہونے کی صورت میں امریکی صدر ان ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کر سکیں گے۔اس بل کے اہم حامیوں میں ریپبلکن پارٹی کے معروف سینیٹر اور یوکرین کے مضبوط حامی مرحوم لنڈسے گراہم بھی شامل تھے۔ ا

ڈونالڈ ٹرمپ کے فوجی کارروائی روکنے کے اشارے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا بھارت میں بھی پٹرول اور ڈیزل سستے ہوں گے، اور خام تیل کی قیمتوں میں اس گراوٹ کا ملکی ایندھن کی قیمتوں پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 85 فیصد درآمد کرنے والے بھارت کے لیے یہ صورتحال ایک بڑا معاشی جھٹکا ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھتی ہیں تو اس کا براہِ راست اثر پٹرول، ڈیزل، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور مہنگائی پر پڑنے کا خدشہ ہے، جس کا بوجھ بالآخر عام صارفین کو برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔

مشترکہ بیان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بھارت کی تیل کمپنیوں، انڈین اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزروز لمیٹڈ، جاپان کی جاپان آرگنائزیشن فار میٹلز اینڈ انرجی سکیورٹی اور جاپان بینک فار انٹرنیشنل کوآپریشن کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں نے گرین امونیا، ہائیڈروجن، شمسی توانائی اور جوہری توانائی سمیت صاف توانائی کے منصوبوں میں تعاون کو بھی مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے بحران کے دوران بھارت کے لیے ایک اہم اور حوصلہ افزا خبر سامنے آئی ہے۔ تقریباً سات سال بعد ایران سے خام تیل کی پہلی کھیپ بھارت پہنچنے والی ہے، جسے توانائی سلامتی کے نقطہ نظر سے نہایت اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

انڈیا بلین اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 999 پیورٹی والے سونے کی قیمت جمعہ کو 1,42,942 روپے فی 10 گرام رہی، جو پیر کے روز 1,35,141 روپے تھی۔ اس طرح ہفتے کے دوران سونے میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

ریلائنس نے زور دیا کہ وہ توانائی کی تجارت کے تمام قابل اطلاق قوانین اور بین الاقوامی ضوابط کی مکمل تعمیل کرتی ہے۔ کمپنی نے کہا کہ خام تیل کی خریداری کے دوران وہ پابندیوں کے فریم ورک اور خریداری کی ہدایات کی سخت پابندی کرتی ہے

یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ فروری کے آخر سے اب تک خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔