مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور جنگ کے سائے نے عالمی تیل بازار میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں برینٹ کروڈ کی قیمت تیزی سے بڑھتے ہوئے 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہے۔ توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حالات جلد معمول پر نہ آئے تو خام تیل کی قیمت 100 ڈالر کی حد بھی عبور کر سکتی ہے۔ اس صورتحال نے بھارت سمیت ان تمام ممالک کی تشویش بڑھا دی ہے جو اپنی ضروریات کے لیے بڑی مقدار میں خام تیل درآمد کرتے ہیں۔
عالمی منڈی میں قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
مشرقِ وسطیٰ دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا خطہ ہے۔ حالیہ حملوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے یا تیل کی ترسیل کے اہم بحری راستے متاثر ہوتے ہیں تو خام تیل کی سپلائی میں رکاوٹ آ سکتی ہے۔ اسی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
بھارت کی معیشت پر کیا اثر پڑے گا؟
بھارت اپنی ضرورت کا تقریباً 85 فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں ہر اضافے کا براہِ راست اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔اگر خام تیل کی قیمت طویل عرصے تک 100 ڈالر فی بیرل کے آس پاس برقرار رہی تو ملک میں پٹرول، ڈیزل، ایل پی جی اور ہوائی ایندھن (ATF) کی قیمتوں میں اضافے کا امکان بڑھ جائے گا۔ اس کے علاوہ مال برداری کے اخراجات بڑھنے سے پھل، سبزیاں، راشن اور دیگر ضروری اشیائے خوردونوش بھی مہنگی ہو سکتی ہیں، جس سے عام آدمی کے گھریلو بجٹ پر مزید بوجھ پڑے گا۔
شیئر بازار اور سرکاری خزانے پر بھی دباؤ
مہنگے خام تیل کا اثر صرف ایندھن کی قیمتوں تک محدود نہیں رہے گا۔ اس سے ایئر لائنز، لاجسٹکس، کیمیکل اور مینوفیکچرنگ شعبوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا، جس کے اثرات شیئر بازار پر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی تیل کی درآمد پر زیادہ زرمبادلہ خرچ ہونے سے ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (CAD) بھی بڑھ سکتا ہے۔ فی الحال پوری دنیا کی نظریں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

