Urdu Conclave 2026

Modi government failure

بھارتی یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) کے نئے ضابطے سے متعلق BJP میں مخالفت کی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ کانپور سے BJP کے سابق رکن پارلیمنٹ اور سابق وزیر ستیہ دیو پچوری نے وزیر اعظم مودی کو خط لکھ کر نئے ضابطے کو واپس لینے کی اپیل کی ہے۔

ملک بھر میں سڑکیں دھنسنے، فلائی اوور گرنے اور نئی تعمیر شدہ سڑکوں کے جلد خراب ہونے کے واقعات نے تعمیراتی معیار اور نگرانی کے نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ گڑگاؤں، کانپور، گجرات اور جموں و کشمیر میں پیش آنے والے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیزائن، تعمیراتی مواد، نکاسیٔ آب اور سرکاری نگرانی کے نظام میں بہتری کی ضرورت ہے۔

پانی کے نمونوں کی جانچ میں تشویشناک انکشاف سامنے آئے ہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں پانی کے مختلف ذرائع سے نمونے لیے گئے تھے۔ جانچ کے دوران ان میں ایسے بیکٹیریا کی موجودگی سامنے آئی جو انسانی فضلے سے آلودگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

تعلیم جیسے اہم شعبے سے وابستہ اساتذہ کو بھی بعض مقامات پر اسکول پہنچنے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالنی پڑ رہی ہے۔ ایسی ہی ایک تصویر سامنے آئی ہے جہاں اساتذہ کو اسکول جانے کے لیے باقاعدہ پل یا محفوظ راستے کے بجائے ’ٹیوب‘ کے سہارے دریا عبور کرنا پڑتا ہے۔

کمزور مانسون اور دیہی بحران کے درمیان روزگار گارنٹی اسکیم کے تحت کام ملنے میں بڑی کمی آئی ہے۔ نئے قانون VB-GRAM G کے نفاذ کے دوران پیدا ہونے والی یہ صورتحال تشویش ناک ہے۔

سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے مرکز کی بی جے پی حکومت اور ریاست کی یوگی حکومت پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے لوگ رام راجیہ کی بات کرتے ہیں، لیکن ’’رام دھن‘‘ کو ہی لوٹ لیتے ہیں۔

کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے نئی دہلی میں بتایا کہ بجٹ اجلاس میں پیش کیا گیا حد بندی بل اپوزیشن کے اتحاد کی وجہ سے منظور نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے متحد ہوکر مخالفت کرنے کے باعث حکومت اپنے منصوبے کو آگے بڑھانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔

مدھیہ پردیش کے ضلع سنگرولی میں محکمہ تعلیم کے سروے کے دوران 243 سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کو انتہائی خستہ حال اور خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ 30 سال پرانی ان عمارتوں کی ازسرِ نو تعمیر کے لیے محکمہ تعلیم گزشتہ ایک سال سے ڈسٹرکٹ منرل فاؤنڈیشن (DMF) فنڈ کا انتظار کر رہا ہے، جس کے باعث ہزاروں طلبہ کی تعلیم اور سلامتی پر خطرات منڈلا رہے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 85 فیصد درآمد کرنے والے بھارت کے لیے یہ صورتحال ایک بڑا معاشی جھٹکا ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھتی ہیں تو اس کا براہِ راست اثر پٹرول، ڈیزل، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور مہنگائی پر پڑنے کا خدشہ ہے، جس کا بوجھ بالآخر عام صارفین کو برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔

نیٹ پیپر لیک معاملے پر مودی حکومت کے خلاف ہو رہے پارلیمنٹ مارچ کو دہلی پولیس نے روک دیا۔ اس کے ساتھ ہی مظاہرین پر پولیس نے لاٹھی چارج بھی کر دیا۔