Bharat Express DD Free Dish

Modi government failure

یوتھ کانگریس نے مرکزی حکومت پر لگائے سنگین الزامات، ادے بھانو چب کی قیادت میں مظاہرین نے نعرے بازی کرتے ہوئے حکومت کو ’ایپسٹین جنتا پارٹی‘ کہا۔

دہلی کے 700 سے زیادہ بازاروں میں کاروبار متاثر ہونے کا دعویٰ، ووٹ چوری معاملے میں حکومت کے ضدی رویے کی وجہ سے دیوالی تک مظاہرے جاری رہنے پر نقصان 10000کروڑ روپے سے تجاوز کرنے کا خدشہ

امریکہ کا روس سے تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر بھاری محصولات عائد کرنے پر غور، بھارت کو بھی ہو سکتا ہے نقصان؛ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے پر مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ

سی ای سی گیانیش کمار کے استعفے اور مبینہ ووٹ چوری کے خلاف 12 اکتوبر کو مارچ کا اعلان، ایس آئی آر عمل روکنے کا بھی مطالبہ کیا جائے گا۔

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج دوسرے دن بھی جاری، جان برٹاس سمیت 200 سے زائد افراد حراست میں۔ پرامن احتجاج کو روکنے کی حکومت کی ہر کوشش ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان سورَو داس کو مقامی لوگوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اسکول میں بغیر اجازت داخل ہونے کی کوشش پر پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے انہیں اور ان کی ٹیم کو وہاں سے باہر نکالا۔

بھارتی یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) کے نئے ضابطے سے متعلق BJP میں مخالفت کی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ کانپور سے BJP کے سابق رکن پارلیمنٹ اور سابق وزیر ستیہ دیو پچوری نے وزیر اعظم مودی کو خط لکھ کر نئے ضابطے کو واپس لینے کی اپیل کی ہے۔

ملک بھر میں سڑکیں دھنسنے، فلائی اوور گرنے اور نئی تعمیر شدہ سڑکوں کے جلد خراب ہونے کے واقعات نے تعمیراتی معیار اور نگرانی کے نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ گڑگاؤں، کانپور، گجرات اور جموں و کشمیر میں پیش آنے والے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیزائن، تعمیراتی مواد، نکاسیٔ آب اور سرکاری نگرانی کے نظام میں بہتری کی ضرورت ہے۔

پانی کے نمونوں کی جانچ میں تشویشناک انکشاف سامنے آئے ہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں پانی کے مختلف ذرائع سے نمونے لیے گئے تھے۔ جانچ کے دوران ان میں ایسے بیکٹیریا کی موجودگی سامنے آئی جو انسانی فضلے سے آلودگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

تعلیم جیسے اہم شعبے سے وابستہ اساتذہ کو بھی بعض مقامات پر اسکول پہنچنے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالنی پڑ رہی ہے۔ ایسی ہی ایک تصویر سامنے آئی ہے جہاں اساتذہ کو اسکول جانے کے لیے باقاعدہ پل یا محفوظ راستے کے بجائے ’ٹیوب‘ کے سہارے دریا عبور کرنا پڑتا ہے۔