Bharat Express DD Free Dish

Middle East conflict

آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ توانائی کی درآمد پر انحصار کرنے والے ممالک کو اس بحران کا زیادہ سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ خام تیل اور گیس کی مہنگی درآمدات سے ان کے درآمدی اخراجات بڑھیں گے، جب کہ کرنسی کی قدر، حقیقی آمدنی اور سرکاری مالی وسائل پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے۔

بدھ کے روز ہی یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایک بیلسٹک میزائل لانچنگ پلیٹ فارم کو تباہ کر دیا ہے۔ اتحاد کے مطابق، اسی پلیٹ فارم کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر حملے کے لیے استعمال کیا گیا تھا

غزہ میں تقریباً تین سال سے جاری جنگ کی وجہ سے بڑا حصہ ملبے میں تبدیل، وزارتِ صحت کے مطابق 74,016 فلسطینی ہلاک اور 1,75,068 زخمی، جنگ بندی کے بعد بھی حملے جاری۔

بھارت کی اقتصادی ترقی کا جائزہ عموماً مجموعی GDP کے اعداد و شمار سے لیا جاتا ہے، لیکن زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اس نمو کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں۔اپریل-جون کی کارکردگی میں پیداوار، خدمات، سرمایہ کاری اور صارفین کی طلب سمیت کئی شعبوں کا مجموعی کردار نظر آتا ہے، نہ کہ کسی ایک عارضی اضافے کا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے فی الحال ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی مؤخر کر دی ہے۔ کیا اس فیصلے کے پیچھے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی فون کال وجہ بنی؟ جانیے پورا معاملہ۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 85 فیصد درآمد کرنے والے بھارت کے لیے یہ صورتحال ایک بڑا معاشی جھٹکا ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھتی ہیں تو اس کا براہِ راست اثر پٹرول، ڈیزل، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور مہنگائی پر پڑنے کا خدشہ ہے، جس کا بوجھ بالآخر عام صارفین کو برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال اور امریکی فوجی کارروائی کے بعد پیدا ہونے والے حالات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے موجودہ حالات پر اپنے اپنے مؤقف سے آگاہ کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے کی صورتحال پر آئندہ بھی مشاورت جاری رکھی جائے گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نجف اور کربلا میں جسد کو لے جانے کا فیصلہ محض مذہبی روایت نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی اور علامتی پیغام بھی رکھتا ہے۔ یہ اقدام آیت اللہ خامنہ ای کو عالمی شیعہ برادری کی مذہبی روایت، شہادت اور آئمہ اہل بیتؑ کی میراث سے جوڑنے کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق فروری 2026 کے آخر میں شروع ہونے والی کشیدگی اب 100 دن سے زیادہ کا عرصہ طے کر چکی ہے۔ اگرچہ مختلف مواقع پر جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کی امیدیں پیدا ہوئیں، تاہم ایران اور اسرائیل کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

واقعے کے بعد کویت میں بھارتی سفارت خانے نے وہاں مقیم بھارتی شہریوں کے لیے ایڈوائزری بھی جاری کی ہے۔ سفارت خانے نے تمام بھارتیوں کو چوکس رہنے، مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔