اسرائیل اور حماس کے درمیان تقریباً تین سال سے جاری جنگ میں فلسطینی ہلاکتوں کی تعداد 74 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 26 ستمبر تک جنگ میں 74,016 فلسطینی ہلاک اور 1,75,068 زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں اسرائیل پر کیے گئے حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ 10 اکتوبر 2025 کو نافذ ہونے والی جنگ بندی نے بڑے پیمانے پر جاری لڑائی کو تو روک دیا، تاہم غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں، گولہ باری اور فائرنگ کے واقعات اب بھی رپورٹ ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق جنگ بندی کے باوجود تشدد ختم نہیں ہوا اور فلسطینی شہری اب بھی شدید انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں مسلح افراد کے اسرائیل پر حملے میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے، جبکہ 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔
جنگ بندی کے بعد بھی 1,145 فلسطینی ہلاک
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے بعد بھی 1,145 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ وزارتِ صحت حماس کے زیرِ انتظام حکومت کا حصہ ہے اور اس کے اعداد و شمار عام طور پر اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے قابلِ استعمال سمجھے جاتے ہیں، تاہم یہ اعداد و شمار شہریوں اور جنگجوؤں کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔ وزارت کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تقریباً نصف خواتین اور بچے ہیں۔ دوسری جانب جنگ بندی کے بعد سات اسرائیلی فوجیوں کی بھی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق جنگ بندی کے باوجود غزہ میں فضائی حملے، گولہ باری اور زمینی کارروائیاں جاری رہی ہیں، جبکہ علاقے کا تقریباً دو تہائی حصہ اب بھی ناقابلِ رسائی یا شدید پابندیوں کی زد میں ہے۔
غزہ میں تباہی اور انسانی بحران برقرار
تقریباً تین سالہ جنگ نے غزہ کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ہیں اور گھروں، اسکولوں، اسپتالوں اور دیگر شہری تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق غزہ میں جنگ کے اثرات اب بھی شدید ہیں۔ ضروری سامان اور طبی وسائل کی رسد میں رکاوٹ، ایندھن کی قلت اور مالی وسائل کی کمی نے صحت کے نظام پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔
اسرائیل کا کہنا – حملے خطرات یا حملوں کے جواب میں
جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں خطرات یا حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب فلسطینی حکام اور بین الاقوامی ادارے جنگ بندی کے باوجود شہریوں کی ہلاکتوں اور انسانی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ جنگ بندی کے دیگر اہم نکات بھی تاحال مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکے ہیں۔ حماس نے ہتھیار نہیں چھوڑے ہیں، نئی فلسطینی حکومت کے قیام اور غزہ کی تعمیرِ نو کے عمل میں بھی تاخیر ہے، جبکہ اسرائیلی فوج غزہ کے بڑے حصے پر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ حماس کے غیر مسلح ہونے تک اسرائیلی فوج پیچھے نہیں ہٹے گی۔
نیتن یاہو کے خلاف اپوزیشن میں اتحاد کی کوشش
جنگ کے ساتھ اسرائیل کی داخلی سیاست میں بھی سیاسی کشیدگی جاری ہے۔ اسرائیل کی بڑی یہودی اپوزیشن جماعتوں نے آئندہ اہم انتخابات میں نیتن یاہو کے اتحاد کو شکست دینے کی کوششوں کے لیے مل کر کام کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اجلاس میں سابق فوجی سربراہ اور نیتن یاہو کے اہم سیاسی حریفوں میں شمار ہونے والے گادی آئزن کوٹ، سابق وزرائے اعظم نفتالی بینیٹ اور یائر لاپید، سینٹر لیفٹ پارٹی کے سربراہ یائر گولان اور اپوزیشن لیڈر ایویگڈور لائبرمین سمیت دیگر لیڈر شریک ہوئے۔ اپوزیشن جماعتوں نے کہا کہ وہ ووٹنگ میں عوام کی شرکت بڑھانے، جعلی خبروں اور بدنام کرنے والی مہمات کا مقابلہ کرنے اور آئندہ حکومت کے بنیادی اصول طے کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔ مشترکہ بیان میں انتخابات کو ریاست کے مستقبل کے لیے اہم قرار دیا گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





