Bharat Express DD Free Dish

Israel Palestine Conflict

اکتوبر2024 میں حماس کے سربراہ یحییٰ سنواراسرائیلی حملے میں مارے گئے تھے۔ ان کی ہلاکت کے بعد تنظیم کسی ایک رہنما کے بجائے پانچ رکنی قیادتی کمیٹی کے ذریعے چلائی جا رہی تھی۔ مسلسل جنگ اور اعلیٰ رہنماؤں کی ہلاکت کے باعث نیا انتخاب نہیں ہوسکا تھا۔ اب حماس نے خلیل الحیہ کو باضابطہ طورپرنیا سربراہ منتخب کرلیا ہے۔

بھارت 31 جنوری کو دوسری ہند-عرب وزرائے خارجہ میٹنگ (آئی اے ایف ایم ایم) کی میزبانی کرے گا۔ بھارت اور متحدہ عرب امارات اس میٹنگ کی مشترکہ صدارت کریں گے، جس میں عرب لیگ کے دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور عرب لیگ کے سکریٹری جنرل بھی شریک ہوں گے۔

اسرائیل کے وحشیانہ اورجارحانہ اقدامات کی مذمت کے لیے دہلی کے جنتر منتر پرایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں شریک افراد نے غزہ کی بگڑتی ہوئی صورت حال پرگہری تشویش کا اظہارکیا اورخبردارکیا کہ غزہ پراسرائیلی فوجی یا سیاسی کنٹرول قائم کرنے کی کوئی بھی کوشش محصورعلاقے میں جاری انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دے گی۔ اس احتجاج میں بڑی تعداد میں عام شہریوں، طلباء، سماجی، مذہبی، سیاسی رہنماؤں اورمعروف سول سوسائٹی کے کارکنوں سمیت دہلی واطراف کی ریاستوں سے سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔

ملک کی مختلف ملی تنظیموں کے رہنماؤں نے غزہ میں اسرائیلی فوج کی بربریت، قتل عام، بھکمری اور میڈیکل سہولیات نہیں فراہم کئے جانے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے پوری دنیا کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔ جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے بھارت ایکسپریس اردو سے خصوصی بات چیت میں تبادلہ خیال کیا۔

پریس کانفرنس میں ممتاز شخصیات نے کہا کہ "اسرائیلی بمباری اورمحاصرے کے باعث غزہ کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طورپرتباہ ہوچکا ہے۔ 20 لاکھ سے زائد شہری شدید غذائی قلت، صحت کے نظام کی تباہی اوردیگر بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کا سامنا کررہے ہیں۔ 90 فیصد سے زیادہ اسپتال یا تو مکمل طورپرتباہ ہوچکے ہیں یا ناقابلِ استعمال ہوچکے ہیں۔

مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کے امیر مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے کہا کہ فلسطین کے حق میں ہرکسی کو آوازاٹھانی چاہئے۔ انہوں نے سعودی عرب کے تعاون اورکردار سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ مظلومین کے تعاون کے لئے ہاتھ بڑھایا ہے۔ سعودی عرب فلسطین کے تعاون کے لئے سب سے آگے رہا ہے اور ہمیشہ اس نے قضیہ فلسطین کی بات کی ہے۔

مسلم تنظیموں کے رہنما، مذہبی علماء اورملک کے امن پسند شہری، غزہ میں جاری نسل کشی اور انسانیت سوز بحران کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہم 20 کروڑ سے زائد بھارتی مسلمانوں اور وطن عزیز کے تمام امن پسند شہریوں کی جانب سے فلسطینی عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹریس نے پیرکی شام کو خبردارکیا کہ غزہ میں "لوگوں کو زندہ رکھنے والے آخری سہارے" منہدم ہو رہے ہیں اوریہ کہ غذائیت کی قلت کے شکاربچوں اوربڑوں کی بڑھتی ہوئی اطلاعات ملی ہیں۔ ابو سلمیہ نے صحافیوں کو بتایا، غزہ کے باقی فعال اسپتالوں میں غذائیت کی قلت اورفاقوں کے نئے کیسز"ہرلمحے" پہنچ رہے ہیں۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں فلسطین کے جھنڈے، پوسٹراوربینرزاٹھا رکھے تھے، جن پر ’فلسطین آزاد ہو‘، ’غزہ زندہ ہے‘، اور’ظلم کے خلاف ہم ایک ہیں‘ جیسے نعرے درج تھے۔ مارچ کے آخری مرحلے میں مظاہرین نے ’ہم سب فلسطین ہیں‘ کا نعرہ لگا کر یکجہتی کا پیغام دیا۔

اسرائیل اورایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان یورپی یونین کے 9 ممالک نے اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت ختم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد فلسطینی علاقوں پراسرائیل کے قبضے کوغیر قانونی تسلیم کرنا اورامن کے عمل میں حائل رکاوٹوں کو دورکرنا ہے۔