Bharat Express DD Free Dish

Israel Palestine Conflict

اسرائیل اورایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان یورپی یونین کے 9 ممالک نے اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت ختم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد فلسطینی علاقوں پراسرائیل کے قبضے کوغیر قانونی تسلیم کرنا اورامن کے عمل میں حائل رکاوٹوں کو دورکرنا ہے۔

"اسرائیل کی نیت بالکل واضح ہے کہ جو بھی ملک اس کی دھونس کے خلاف کھڑا ہو، اسے تباہ کر دو — لیکن یہ سب کچھ امریکہ کی کھلی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔"

شہری دفاع کے میڈیکل سپلائی کے ڈائریکٹرمحمد المغیرنے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں سے 23 افراد مرکزی غزہ کے البریج پناہ گزین کیمپ کے مشرق میں القرییناوی خاندان کے گھرپراسرائیلی وحشیانہ بمباری کا نشانہ بنے۔ غزہ کی وزارت صحت نے بھی رفح میں امریکی امدادی مراکز کے قریب اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 48 گھنٹوں کے دوران 9 افراد کے جاں بحق ہونے اور60 سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کا بتایا۔

ٹرمپ کے خلیجی ممالک (قطر، سعودی عرب، اور متحدہ عرب امارات) کے دورے کے دوران غزہ کا بحران سفارتی بات چیت کا اہم موضوع رہا۔ مصر نے حال ہی میں ٹرمپ کے دورے سے قبل غزہ میں جنگ بندی کے لیے ایک نئی امریکی تجویز موصول کی۔

یہ دورہ اس بات کا اشارہ ہے کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک اب عالمی سطح پر ایک اہم جغرافیائی و سیاسی مقام کے حامل ہیں۔ نہ صرف وہ علاقائی استحکام کے لیے ایک مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، بلکہ اپنی مضبوط معیشت اور اصلاحاتی رجحانات کی بنا پر بھی توجہ کا مرکز ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے دنیا پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان دو ریاستی حل پر عمل درآمد کے لیے ’ناقابل واپسی اقدامات کرے۔

اسرائیل کو ان سنگین خلاف ورزیوں کے لیے مکمل طور پر جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے، جو کہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور صحافیوں کے تحفظ اور غزہ کی پٹی میں جاری نسل کشی کو سامنے لانے اور صحافت کی آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے اس کی ذمہ داریوں کے صریح تضاد کی نمائندگی کرتے ہیں

اسرائیل مسلسل غزہ میں اپنے فوجی مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سلسلے میں اس نے غزہ کے کچھ حصوں کے لیے جامع انخلاء کے احکامات جاری کیے ہیں۔ بنجامن نیتن یاہو نے واضح طورپرکہا ہے کہ ان علاقوں کو جلد ازجلد خالی کردیا جائے۔ دوسری جانب، اسرائیل کے انخلاء کے حکم کے حوالے سے اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ جنگ بندی ٹوٹنے کے بعد سے تقریباً 280,000 فلسطینی جبری طور پر بے گھرہوچکے ہیں۔

عرب اسلامی وزارتی کمیٹی نے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ قاہرہ میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کاجا کالس سے ملاقات کے بعد کمیٹی نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی  ختم ہونے پر تشویش کا اظہار کیا اور اسرائیلی حملوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

معاہدے کے تحت حماس تمام خواتین (فوجی اور عام شہری) بچوں، اور 50 سال سے زیادہ عمر کے 33 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے گی، حماس 6 ہفتوں کے دوران یرغمالیوں کو رہا کرے گی، اس دوران ہر ہفتے 3 یرغمالیوں کو رہا کیا جائیں گے۔