Bharat Express DD Free Dish

Gaza

منصوبے میں کہا گیا ہے کہ تمام سول اور سیکیورٹی اختیارات قومی کمیٹی کو منتقل کیے جائیں گے، جو سرکاری اداروں کو چلانے، بنیادی عوامی خدمات کی فراہمی، قانون و نظم برقرار رکھنے اور غزہ میں حکومتی امور کی واحد مجاز اتھارٹی ہوگی۔ اس کے علاوہ تعمیر نو کے آغاز سے قبل غزہ کے مالی اور انتظامی معاملات کا مکمل آڈٹ بھی کیا جائے گا۔

حکام نے واضح کیا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے عمل کے دوران جمع کرائے گئے ہتھیار نہ تو اسرائیل اور نہ ہی کسی دوسرے فلسطینی گروہ کو منتقل کیے جائیں گے، بلکہ یہ تمام ہتھیار عبوری فلسطینی انتظامیہ کی تحویل میں رہیں گے۔

سونیا گاندھی نے غزہ موضوع پرمرکزی حکومت کی خاموشی پرسوال اٹھائے۔ بی جے پی نے جواب دیتے ہوئے کانگریس پرغیرملکی پالیسی کوووٹ بینک سے جوڑنے کا الزام لگایا ہے۔

جنوبی کوریا کے قوانین کے مطابق، کسی بھی شہری کو حکومتی اجازت کے بغیر غزہ پٹی جانے یا وہاں قیام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے پر ایک سال تک قید یا 10 لاکھ وون (تقریباً 6,685 امریکی ڈالر) تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

ووٹنگ سے قبل شہر کی سڑکوں، بازاروں، بجلی کے کھمبوں، بے گھر افراد کے کیمپوں، کمیونٹی سینٹرز اور پناہ گزین خاندانوں کے علاقوں میں بھرپور انتخابی مہم دیکھنے کو ملی، جس سے عوامی دلچسپی کا اندازہ ہوتا ہے۔

وزیر اعظم مودی کے جاری دورۂ اسرائیل کے درمیان ایران نے اہم سفارتی بیان دیتے ہوئے بھارت سے فلسطین کے مسئلے پر فعال کردار ادا کرنے کی امید ظاہر کی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ وزیر اعظم مودی اسرائیل میں قیام کے دوران فلسطینی عوام کے حقوق کا معاملہ ضرور اٹھائیں گے۔

طارق انور نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ ناانصافی سے متعلق معاملات پر اپنی آواز بلند کی ہے۔ بھارت نے ہمیشہ غیر جانب دار موقف اپنایا ہے، اور بھارت نے ہمیشہ جو بھی درست ہے، بین الاقوامی امن کے لیے جو بھی اقدامات اٹھائے گئے ہیں، اس میں اپنی دلچسپی دکھائی ہے۔

وزیراعظم مودی کے اسرائیل دورے پر کانگریس نے سوال اٹھائے ہیں۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ’’مجھے امید ہے کہ وزیراعظم مودی اسرائیل دورے کے دوران کنیسٹ کو خطاب کرتے ہوئے غزہ کا ذکر کریں گے اور وہاں ہلاک ہونے والے بے گناہ مرد، خواتین اور بچوں کے قتل عام کے لیے انصاف کی بات کریں گے‘‘۔

غزہ میں جنگ کے بعد امن و بحالی کے عمل کو تیز کرنے کے مقصد سے قائم کیے گئے عالمی ”بورڈ آف پیس“ کی پہلی اہم میٹنگ امریکہ میں منعقد ہوئی، جس میں مختلف ممالک نے مالی امداد، سیکیورٹی تعاون اور امن فوج کی تعیناتی سے متعلق بڑے اعلانات کیے۔ اجلاس کی صدارت امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کی، جنہوں نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے 10 ارب ڈالر کی خطیر امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا۔

امریکہ نے ایک ’بین الاقوامی استحکامی فورس‘ تعینات کرنے اور عبوری مرحلے کے دوران غزہ میں نظم و نسق، سلامتی اور تعمیر نو کی کوششوں کے تال میل کے لیے ایک اعلیٰ نمائندہ مقرر کرنے کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔