Bharat Express DD Free Dish

Israel razed Gaza’s only cancer hospital: اسرائیل نے غزہ کے واحد کینسر اسپتال کو زمیں بوس کیا، بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت محفوظ تھا اسپتال

تصویر بشکریہ بشار طالب/اے ایف پی۔

اسرائیل نے غزہ میں کینسر کے علاج کے واحد خصوصی اسپتال کے ساتھ ساتھ ملحقہ میڈیکل اسکول کو بھی دھماکے سے اڑا دیا ہے۔ اسرائیل کے ذریعے ایک بارپھر اس طبی سہولت کو نشانہ بنانے کی مذمت کی جا رہی، جس پر حملہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ممنوع ہے۔ جمعہ کو اسرائیلی حملے نے وسطی غزہ کے ترک-فلسطین فرینڈشپ ہسپتال کو زمیں بوس کر دیا، جسے اس سے پہلے اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فضائی حملوں میں بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔

آن لائن پوسٹ کی گئی فوٹیج میں اسرائیلی فوج کی جانب سے حملے کے بعد اسپتال کی جگہ سے آگ کا ایک بڑا گولہ اور دھواں اٹھتا دیکھا گیا ہے۔ یہ اس وقت ہوا جب اسرائیل نے اعلان کیا کہ وہ اسپتال کے نزدیک اپنے آپریشن کو بڑھا رہا ہے اور اس نے صلاح الدین اسٹریٹ پر تمام نقل و حرکت کو روک دیا ہے۔ الجزیرہ کی خبر کے مطابق اس حملے نے محاصرہ زدہ علاقے میں ہزاروں مریضوں کے کینسر کے علاج کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑی ہے۔

اسرائیل نے پہلے بھی بنایا تھا اس اسپتال کو نشانہ

واضح رہے کہ اس سے قبل 30 اکتوبر 2023 کو اسرائیلی فضائی حملے میں اس اسپتال کی تیسری منزل کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ وہیں ایندھن کی قلت کے سبب یکم نومبر 2023 کو اسپتال بند کرنا پڑا تھا۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا تھا کہ 70 مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ چار مریض اسپتال میں طبی امداد کی کمی کے باعث دم توڑ گئے۔

الجزیرہ کی خبر کے مطابق اسرائیلی فورسز کی طرف سے وسطی اور شمالی غزہ میں اپنے پچھلے فوجی حملے کے دوران اس ہسپتال کو کمانڈ سینٹر کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ 2017 میں ترکی کے 34 ملین ڈالر کے عطیہ سے دوبارہ تعمیر ہونے والے اس اسپتال کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ اسرائیل نے بھی اس کی تصدیق کر دی ہے اور بغیر کسی ثبوت کے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ اسپتال حماس کے استعمال میں تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read