Bharat Express DD Free Dish

Gaza-Israel War

مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کے درمیان وزیر اعظم مودی نے اتوار کی دیر رات اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو سے ٹیلی فون پر رابطہ قائم کرکے خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں لیڈروں نے جاری کشیدگی، بڑھتے فوجی تصادم اور شہری سلامتی سے متعلق خدشات پر گفتگو کی۔

طارق انور نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ ناانصافی سے متعلق معاملات پر اپنی آواز بلند کی ہے۔ بھارت نے ہمیشہ غیر جانب دار موقف اپنایا ہے، اور بھارت نے ہمیشہ جو بھی درست ہے، بین الاقوامی امن کے لیے جو بھی اقدامات اٹھائے گئے ہیں، اس میں اپنی دلچسپی دکھائی ہے۔

آسٹریلیا کے معروف انسانی حقوق کے وکیل کرس سڈوٹی نے اے بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ہرزوگ کو آسٹریلیا پہنچتے ہی گرفتار کیا جانا چاہیے، کیونکہ ان پر مبینہ طور پر نسل کشی کو فروغ دینے کا الزام ہے۔

ریاست ہائے متحدہ نے مصر، سعودی عرب اور ترکی سمیت عرب و مسلم اکثریتی ممالک کے ایک گروپ کے ساتھ مل کر جمعہ کے روز سلامتی کونسل سے درخواست کی کہ وہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی حمایت کرنے والی امریکہ کی زیرِ قیادت تجویز کو جلد از جلد منظور کرے۔

گیارہ سال کے طویل انتظار کے بعد فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیل کے لیفٹیننٹ حیدر گولڈن کی لاش اسرائیلی حکام کے حوالے کر دی ہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم نے کہا کہ ”ریاست کے قیام سے ہی یہ ہمارا اصول رہا ہے کہ ہم اپنے شہیدوں کو واپس لاتے ہیں۔ آج ہم وہی کر رہے ہیں۔ ہمیں لیفٹیننٹ حیدر گولڈن کی لاش موصول ہو گئی ہے اور شناخت کی باضابطہ تصدیق کا عمل شروع کیا جا رہا ہے“۔

ترکی نے نسل کشی کے الزام میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سمیت 37 اسرائیلی اہلکاروں کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ہیں۔ ترکی نے غزہ میں منظم نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام لگایا ہے۔ اسرائیل نے اسے"پبلسٹی اسٹنٹ" قراردیتے ہوئے مسترد کردیا ہے جبکہ حماس نے ترکی کے اس قدم کا خیر مقدم کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈٹرمپ نے کہا کہ حماس کی قیادت کسی بھی مبینہ خلاف ورزی میں ملوث نہیں تھی۔ انہوں نے ’’کچھ اندرونی باغیوں‘‘ کو  اس کے لیے مورد الزام ٹھہرایا۔

غزہ پٹی میں دو سال سے جاری جنگ کے بعد بالآخر اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی نافذ ہوگئی ہے۔ مصر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 عالمی رہنماؤں کی موجودگی میں غزہ امن معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اگرچہ اس معاہدے نے امیدیں بڑھا دی ہیں، لیکن کئی اہم امور پر معاہدہ اب بھی غیر واضح ہے۔

اسرائیل اور حماس نے غزہ میں تنازع کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 'امن منصوبے' کے پہلے مرحلے کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے تحت اسرائیلی ڈیفنس فورس غزہ کی پٹی سے ایک خاص حد کے اندر انخلاء کرے گی۔ حماس 72 گھنٹے بعد تمام مغویوں کو رہا کر دے گا۔ فریقین کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہونے کے بعد اس کی نگرانی کے لیے 200 امریکی فوجی تعینات کیے جائیں گے۔

حماس امریکی صدرٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے کچھ پہلوؤں کے بارے میں غیریقینی ہے۔ مصرمیں بالواسطہ بات چیت کے دوران حماس نے اسرائیل سے غزہ سے مکمل انخلاء اورمستقل جنگ بندی کی ضمانت کا مطالبہ کیا۔ یرغمالیوں کی رہائی پر رضا مندی کے باوجود، اسرائیلی فوجیوں کے انخلاء سے متعلق ابہام نے جنگ بندی کوروک دیا ہے۔