Bharat Express DD Free Dish

Gaza-Israel War

مسجد الاقصیٰ کیمپس کے اندراسرائیل کے ذریعہ غیرقانونی طور پر کھدائی کرنے پر فلسطین اتھارٹی سمیت بین الاقوامی اداروں نے مذمت کی ہے۔ اسلامی، تعلیمی اور ثقافتی تنظیم نے مسجد الاقصیٰ احاطے کے اندر کھدائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ 1954 کے ہیگ کنونشن اور چوتھے جنیوا کنونشن کی صریح خلاف ورزی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ غزہ شہرپر قابو پائے، جہاں تقریباً 10 لاکھ لوگ رہتے ہیں۔ بدھ کو اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا کہ شہر کے باشندگان کومنتقل کرنے کی تیاری جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انسانی امداد کے مراکز قائم کئے جارہے ہیں اورخیمے فراہم کیے جا چکے ہیں، لیکن امدادی تنظیمیں جنوب میں ساحلی علاقے کی تباہ کن صورت حال کے بارے میں بار بار خبردارکرتی رہی ہیں۔ غزہ کی جنگ میں 60 ہزارسے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔

اسلامی تعاون تنظیم (اوآئی سی) کے 57 ممالک نے اسرائیل کی اقوام متحدہ کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے غزہ پر قبضے اورگریٹراسرائیل کی پالیسی کی مخالفت کی۔ غزہ کے اسپتال پر حملے میں 20 افراد ہلاک ہوئے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اس کی مذمت کی۔

اسرائیل کے معاملے میں امریکہ اوریوروپ کا دباؤ ہمیشہ اہم مانا جاتا ہے۔ مغربی ممالک کھلے طور پراس کی حمایت کرتے ہیں اور اقوام متحدہ جیسے اسٹیج پراس کا موقف مضبوط کرتے ہیں۔ اگرکوئی مسلم ملک اسرائیل کے خلاف سیدھی کارروائی کرتا ہے تواسے مغربی ممالک سے سخت پابندی اوراقتصادی نقصان کا خوف ستانے لگتا ہے۔

بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کی جانب سے اس جنگ کے دائرہ وسیع کرنے کے خطرات پر انتباہات میں اضافہ ہوا ہے، جو 2023 سے جاری ہے۔ اس دوران پورے غزہ میں غذائی قلت کے علاوہ طب، خوراک اور پانی کے وسائل کی شدید کمی اور اسپتالوں کی بگڑتی حالت بھی واضح طور پر عیاں کی جا رہی ہے۔

اسرائیل نے غزہ پر مکمل قبضے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے مرکز میں حماس کا آخری گڑھ المواسی ہے۔ یہ ریتیلا علاقہ گھنی آبادی والا ہے، جہاں حماس کے جنگجوؤں کے چھپے ہونے کا خدشہ ہے۔ اسرائیل کے اس قدم کی دنیا بھرمیں مذمت ہو رہی ہے کیونکہ اس سے غزہ میں انسانی بحران مزید گہرا ہوسکتا ہے۔

غزہ کی صورتحال پہلے ہی نازک ہے، جہاں مقامی ہسپتالوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں بھوک اور غذائی قلت کی وجہ سے چار اموات رپورٹ کی ہیں، جس سے اکتوبر 2023 کے حماس کے حملوں کے بعد سے بھوک سے متعلق اموات کی تعداد 197 ہو گئی ہے، جن میں 96 بچے شامل ہیں۔

دیگر یورپی ممالک نے بھی اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ برطانیہ نے گزشتہ سال ہتھیاروں کی کچھ برآمدات معطل کر دی تھیں، اور اسپین نے اکتوبر 2023 میں ہتھیاروں کی فروخت روک دی تھی۔ نیدرلینڈز نے ہتھیاروں سے متعلق کنٹرول سخت کر دیے ہیں، جبکہ فرانس اور بیلجیم میں قانونی چیلنجز جاری ہیں۔

غزہ میں بھوک سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ لوگ نمک اورپانی پرزندہ ہیں، بچے غذائی قلت سے مررہے ہیں۔ صورتحال انتہائی سنگین ہے، اس کے باوجود عالمی ادارے غزہ کو قحط زدہ قراردینے سے گریزکررہے ہیں۔ آئیے اس کی وجہ جانتے ہیں۔

پریس کانفرنس میں ممتاز شخصیات نے کہا کہ "اسرائیلی بمباری اورمحاصرے کے باعث غزہ کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طورپرتباہ ہوچکا ہے۔ 20 لاکھ سے زائد شہری شدید غذائی قلت، صحت کے نظام کی تباہی اوردیگر بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کا سامنا کررہے ہیں۔ 90 فیصد سے زیادہ اسپتال یا تو مکمل طورپرتباہ ہوچکے ہیں یا ناقابلِ استعمال ہوچکے ہیں۔