Bharat Express DD Free Dish

Gaza

اسپین نے 2024 میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا۔ میڈرڈ غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائی پر یورپ میں سب سے زیادہ تنقید کرنے والے ممالک میں شامل رہا ہے۔

قطر ایک بار پھر خود کو ایک فعال ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے، جو نہ صرف غزہ میں امن اور انسانی امداد کے لیے کام کر رہا ہے بلکہ عالمی بحرانوں میں بھی مکالمے اور سفارت کاری کے راستے کو آگے بڑھا رہا ہے۔

اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ہفتہ وار کابینہ اجلاس میں حماس کو غیر مسلح کرنے اور کسی بھی قیمت پر آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرنے  کے اپنے مذموم ارادےکو دہرایا۔

ریاست ہائے متحدہ نے مصر، سعودی عرب اور ترکی سمیت عرب و مسلم اکثریتی ممالک کے ایک گروپ کے ساتھ مل کر جمعہ کے روز سلامتی کونسل سے درخواست کی کہ وہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی حمایت کرنے والی امریکہ کی زیرِ قیادت تجویز کو جلد از جلد منظور کرے۔

گزشتہ ماہ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے مصر کا دورہ کیا تھا۔ کئی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہاں انہوں نے موساد اور سی آئی اے کے اہلکاروں سے ملاقاتیں کیں۔ اس ملاقات کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی کابینہ کو آگاہ کیا کہ حماس کے خلاف غزہ میں پاکستانی اور انڈونیشیا کی فوجیں تعینات کی جائیں گی۔

اسرائیل نے اتوار کو تصدیق کی کہ اُسے غزہ میں حماس کی جانب سے تین یرغمالیوں کی لاشیں موصول ہوئی ہیں۔ یہ اقدام جنگ بندی معاہدے کے تحت لاشوں کے تبادلے کے عمل کا حصہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اسرائیل کے ساتھ جنگ ​​بندی کے معاہدے پر عمل نہیں کیا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو دارالحکومت دہلی میں سری لنکا کی وزیر اعظم ڈاکٹر ہرینی نیریکا امرسوریا اور مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدلتی سے الگ الگ ملاقات کی۔ دوطرفہ تعلقات کو نئی تحریک دینے اور علاقائی اور عالمی اہمیت کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسرائیل اور حماس نے غزہ میں تنازع کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 'امن منصوبے' کے پہلے مرحلے کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے تحت اسرائیلی ڈیفنس فورس غزہ کی پٹی سے ایک خاص حد کے اندر انخلاء کرے گی۔ حماس 72 گھنٹے بعد تمام مغویوں کو رہا کر دے گا۔ فریقین کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہونے کے بعد اس کی نگرانی کے لیے 200 امریکی فوجی تعینات کیے جائیں گے۔

غزہ امن معاہدے  پر اسرائیل اور حماس کے درمیان اتفاق رائے  قائم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ امن معاہدے کے پہلے مرحلے پر اسرائیل اور حماس کے مابین ہونے والی رضامندی کا اعلان کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس پہل کا خیرمقدم کرتے ہوئے ٹرمپ اور نیتن یاہو کی قیادت کی ستائش کی۔