غزہ کے رفح علاقہ میں 23 مارچ کو ہوا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ اب عالمی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ اس میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ میں 15 میڈیکل و ہنگامی خدمات میں لگے اہلکار کی موت ہو گئی تھی۔ ظلم یہیں تک نہیں تھا بلکہ بعد میں ان کی مسخ شدہ لاشیں ریت میں دفن ملیں۔ لاشوں کی اس حالت پر اقوام متحدہ سمیت دنیا بھر کے ملکوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔ آئی ڈی ایف کے مطابق حملے کے بعد لاشوں کو جانوروں سے بچانے کے لیے ریت میں دفنا دیا گیا اور گاڑیاں ہٹائی گئیں تاکہ سڑک صاف ہو سکے۔ لاشوں کو بین الاقوامی ایجنسیوں کے ذریعہ ایک ہفتہ بعد مسخ شدہ حالت میں تلاش کر لیا گیا، جب علاقے میں محفوظ داخلہ ممکن ہو سکا۔ شروع میں آئی ڈی ایف نے اس واقعہ کو دہشت گردوں پر جوابی کارروائی کہا تھا، لیکن اب فوج نے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا ہے۔ اس نے تسلیم کیا ہے کہ اس کی فوج نے نہتھے لوگوں کو گولیوں سے بھون ڈالا۔ اس حملے میں مارے گئے فلسطینی ریڈ کریسنٹ، اقوام متحدہ اور غزہ سول ڈیفنس سے جڑے تھے۔ اس المناک واقعہ کا ویڈیو بھی اب سامنے آ گیا ہے۔
Video showed that before 15 aid workers were killed by Israeli forces, they had their emergency signal lights on, contradicting Israel’s claims. https://t.co/B81Vfgk8cu
— The New York Times (@nytimes) April 5, 2025
واقعہ کا ویڈیو ایک مردہ پیرامیڈک کے فون میں ملا ہے۔ یہ ویڈیو اسرائیلی فوج کے شروعاتی دعوؤں کو خارج کرتا ہے اور دکھاتا ہے کہ گاڑی ہیڈ لائٹ اور پہچان نشانات کے ساتھ واضح طور سے نشانزد تھے۔ اسرائیلی فوج نے بعد میں بیان بدل دیا اور یہ بھی قبول کر لیا کہ مارے گئے سبھی اہلکار نہتھے تھے، حالانکہ کچھ کے حماس سے جڑے ہونے کا دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے، لیکن اسرائیل کے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ یہ ویڈیو رفعت ردوان نامی ایک پیرامیڈک نے ریکارڈ کیا تھا، جو بعد میں اس حملے میں مارا گیا۔ ویڈیو میں ردوان اپنی آخری دعا کرتے سنے جا سکتے ہیں۔ اس کے بعد گولی باری شروع ہو جاتی ہے اور پھر اسرائیلی فوجیوں کی آوازیں آتی ہیں۔ یہ ویڈیو ایک ہفتہ بعد جائے وقوع پر ملے ان کے موبائل فون سے ملا۔
Video obtained by @farnazfassihi confirms the IDF fired on and killed clearly identified @PalestineRCS medics in Gaza. 15 were killed. Satellite pics analyzed by @ckoettl & @sanjanamv show the IDF then buried the medics with the ambulances. Story 👇 https://t.co/FJWAu17ULq pic.twitter.com/1rkabK6jxC
— Malachy Browne (@malachybrowne) April 5, 2025
ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ایمبولینسیں، فائر ٹرک اور اقوام متحدہ کی گاڑیاں شناختی نشانات کے ساتھ موجود ہیں، جن کی ایمرجنسی لائٹس بھی جل رہی ہیں۔ تاہم، جیسے ہی امدادی قافلہ رفح کے علاقے میں پہنچا، فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ دو امدادی کارکن جیسے ہی زخمیوں کو بچانے ایک ایمبولینس کی طرف بڑھے، اسرائیلی فوج نے ان پر شدید گولیاں برسا دیں۔ ویڈیو میں ایک امدادی کارکن کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے سنا جا سکتا ہے، جس کے الفاظ تھے: “ماں، مجھے معاف کر دینا، لوگوں کی مدد کرنا ہی میرا راستہ تھا۔” اقوام متحدہ اور فلسطینی ہلال احمر نے اس واقعے کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے سلامتی کونسل سے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق یہ واقعہ 2017 کے بعد ہلال احمر اور ریڈ کراس پر ہونے والا سب سے مہلک حملہ ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق واقعے کے دو دن بعد اسرائیلی فوجیوں نے ایمبولینسیں اور لاشیں اجتماعی قبر میں چھپا دیں۔ سیٹلائٹ تصاویر اور موقع سے ملنے والے شواہد نے انکشاف کیا کہ یہ ایک منصوبہ بند اور سفاکانہ کارروائی تھی۔
Video obtained by The New York Times of an Israeli attack that killed 15 rescue workers in March shows that contrary to IDF claims, the clearly-marked ambulances had their lights on when they arrived at a scene in south Gaza and came under Israeli firehttps://t.co/EQUAt42yZ2
— Haaretz.com (@haaretzcom) April 5, 2025
فلسطینی ریڈ کریسنٹ، اقوام متحدہ اور کئی دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے اس واقعہ کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ وہیں آئی ڈی ایف نے کہا ہے کہ وہ واقعہ کی مجموعی طور پر جانچ کرے گا تاکہ سبھی حقائق کو سمجھا جا سکے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 50 ہزار سے زائد فلسطینی شہری شہید ہو چکے ہیں جن میں 1,060 سے زیادہ طبی اہلکار شامل ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
