Bharat Express DD Free Dish

IDF

صدر عون نے کہا کہ لبنان کے تمام علاقوں اور تمام برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگ کئی دہائیوں پر محیط تنازعات سے تھک چکے ہیں اور اب استحکام اور امن چاہتے ہیں۔

میزائل داغے جانے کے بعد کیریات شمونہ شہر اور لبنان کی سرحد کے قریب شمال مشرقی اسرائیل کے آٹھ گاؤں میں فضائی حملے کے خطرے کے سائرن بج اٹھے، جس کے باعث ہزاروں رہائشی محفوظ پناہ گاہوں کی جانب منتقل ہو گئے۔

آئی ڈی ایف نے حزب اللہ کے چیف کو نشانہ بنا کر یہ حملہ کیا تھا۔ 2016 میں امریکہ نے طباطبائی کو سب سے زیادہ مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا، اور ان پر 50 لاکھ کا انعام بھی رکھا گیا تھا۔ 2023-24 میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے شدید حملوں میں آئی ڈی ایف نے حزب اللہ کے زیادہ تر افسران کو ہلاک کر دیا تھا۔

قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا، ’’قطر کی ریاست اس بزدلانہ اسرائیلی حملے کی سخت مذمت کرتی ہے، جس میں دوحہ میں حماس کے سیاسی بیورو کے متعدد اراکین کے رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ مجرمانہ حملہ تمام بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے اور قطری عوام اور قطر میں مقیم افراد کی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔‘‘

ایران پر فضائی حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کا مقصد ایران کی ’جوہری افزودگی کی صلاحیت‘ کو تباہ کرنا تھا۔ ٹرمپ نے ملک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یا تو امن ہو گا یا سانحہ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی بہت سے اہداف باقی ہیں۔ اگر امن جلد نہ ہوا تو امریکہ دوسرے اہداف پر مزید درست حملے کرے گا۔

آئی ڈی ایف نے کہا کہ ایران کے جوہری ہتھیاروں کے منصوبے کو نقصان پہنچانے کی اپنی کارروائی کے تحت تہران میں ایس پی این ڈی کے ہیڈ کوارٹر کی عمارت پر بھی حملہ کیا گیا۔ IDF نے کہا، ’’SPND ہیڈکوارٹر کو ایران کی فوجی صلاحیتوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کی تحقیق اور ترقی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جسے 2011 میں ایران کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے بانی فخری زادہ نے قائم کیا تھا۔‘‘

اسرائیلی فوج نے اس حملے کی ذمہ داری لیتے ہوئے کہا کہ وہ تہران میں فوجی ٹھکانوں پر حملہ کررہی تھی، اسی دوران لویجان علاقہ میں بمباری ہوئی۔

امریکہ نے ایران کو وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سبھی لوگوں کو تہران خالی کردینا چاہئے۔ وہیں دوسری طرف اسرائیل کے کئی شہروں میں دھماکے کی خبر ملی ہے۔ تل ابیب کے شمال میں ہرجلیا میں خطرناک دھامکہ ہوا ہے۔ 

غزہ میں اس وقت شدید تباہ کن جنگ جاری ہے اور دو ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری اسرائیلی محاصرے کے باعث خوراک، صاف پانی، ایندھن اور ادویات جیسی بنیادی اشیاء کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے یہ ویڈیو جاری کی ہے، جو شہید ہونے والے ایک امدادی کارکن کے موبائل فون سے ملی ہے۔ یہ فون اور لاش ایک ہفتے بعد اجتماعی قبر سے برآمد کیے گئے تھے۔